
امجد ہادی یوسفزئی
خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر نوشہرہ کے رہائشی تیمور عالم، جو ڈیجیٹل دنیا میں تائم عالم اور اپنے پلیٹ فارم تائمز فوڈ کے نام سے جانے جاتے ہیں، آج پاکستان کے نمایاں اور بااثر فوڈ تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ تائم عالم نے فوڈ ولاگنگ کو محض کھانے کی نمائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ثقافت، شناخت اور ورثے سے جوڑ کر ایک بامقصد سفر میں تبدیل کر دیا ہے۔ وہ خود کو ایک کلینری ڈپلومیٹ کے طور پر دیکھتے ہیں، جو کھانے کے ذریعے ثقافتوں کے درمیان روابط قائم کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایک بڑے ٹک ٹاک ایونٹ میں تائم عالم نے روایتی پشتون لباس، پکول اور قمیض شلوار پہن کر شرکت کی۔ یہ اقدام ان کے ثقافتی شعور اور اپنی شناخت پر فخر کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی مقامی روایت کے ساتھ موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہوئے اپنی ثقافت کو وقار کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنا جانتے ہیں۔ تائم عالم کا ولاگنگ انداز انہیں دیگر فوڈ تخلیق کاروں سے ممتاز بناتا ہے۔ وہ ہر ڈش کو صرف ذائقے کے زاویے سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کے پس منظر، تاریخ اور ثقافتی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مواد پاکستان بھر میں بے حد مقبول ہے اور ان کے پیروکاروں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ چکی ہے۔ ٹک ٹاک کے ایک بڑے قومی مقابلے میں تائم عالم کی ٹیم نے سب سے زیادہ عوامی ووٹس حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جس کے نتیجے میں انہیں ترکی کے دورے کی دعوت ملی۔ یہ کامیابی ان کی محنت، تخلیقی سوچ اور ناظرین کے اعتماد کا عملی ثبوت ہے۔ تائم عالم کی شخصیت فوڈ ولاگنگ تک محدود نہیں۔ وہ سماجی فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم کردار ادا کرتے ہیں اور اپنی کمیونٹی کے لیے مثبت مثال بن چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اثر و رسوخ کا اصل مقصد معاشرے میں بہتری لانا اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تائم عالم کا وژن ہے کہ پاکستان کے ہر خطے کے روایتی کھانوں اور ثقافت کو عالمی سطح پر متعارف کروایا جائے۔ ان کے نزدیک کھانا ایک عالمی زبان ہے جو سرحدوں اور ثقافتوں سے بالاتر ہو کر لوگوں کو جوڑتی ہے۔ اسی تصور کے تحت وہ تائمز فوڈ کے ذریعے خیبر پختونخوا کی خوشبو، ذائقہ اور روایت دنیا تک پہنچا رہے ہیں، اور پاکستان کو ایک منفرد کلینری ڈپلومیسی کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تائم عالم نے ثابت کر دیا ہے کہ فوڈ ولاگنگ صرف ذائقے کی دنیا تک محدود نہیں بلکہ یہ ثقافت، شناخت اور عالمی تعلقات کے لیے بھی ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کی مقامی روایات کو زندہ رکھ رہے ہیں بلکہ دنیا کے سامنے ایک مثبت اور باوقار پاکستانی شناخت بھی پیش کر رہے ہیں-
![]()