پشاور: سانحہ امامبارگاہ خدیجةُ الکبریٰ اسلام آباد کے شہداء کے لواحقین اور مجروحین سے اظہارِ یکجہتی اور واقعے کے خلاف احتجاج کے لیے شیعانِ حیدر کرار اور محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کی جانب سے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ شرکاء کی بڑی تعداد پریس کلب پشاور کے باہر جمع ہوئی، جہاں سے احتجاجی مظاہرہ ریلی کی صورت اختیار کرتے ہوئے گورنر ہاؤس پشاور کی جانب روانہ ہوا۔
ریلی کے اختتام پر مولانا سید عالم شاہ نے دعا کرائی جبکہ شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے سورہ فاتحہ بھی پڑھی گئی۔ شرکاء نے سانحے کے سہولت کاروں اور ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ملوث عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں بارہا اہلِ تشیع کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، لہٰذا ریاستی ادارے اس سلسلے میں مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ ایسے سانحات کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شہداء کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور پرامن و آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ریلی میں مختلف تنظیموں کے عہدیداران، ماتمی سنگتوں اور دستوں کے سالاران و اراکین، متولیان و منتظمین امام بارگاہ، علماء و سادات، بزرگ شہری، نوجوان، طلبہ تنظیمیں اور خواتین شریک تھیں۔
منتظمین نے احتجاج میں شرکت کرنے والے تمام افراد اور تنظیموں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور سوشل ورکرز کا بھی شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے کم وقت میں مؤثر کوریج فراہم کی۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو بھی سراہا گیا۔
اختتام پر ملک میں امن و امان اور اتحاد و یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے