پشاور (فیاض شاداب)اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نےحالیہ اسلام آباد میں دھشت گردانہ واقعے پرگہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس وقت خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام میں گہری بے چینی پائی جاتی ہے۔ ​امن و امان کے حوالے سے حکومت کا دوہرا معیار ہے اسلام آباد جیسے شہروں میں ہونے والی بدامنی پر عالمی سطح بشمول امریکہ سے ہمدردی آتی ہے لیکن دہائیوں سے جاری پختونوں کی نسل کشی اور خونریزی پر حکومت اور عالمی برادری وہ ردعمل نہیں دکھاتی جس کی توقع کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے ملگری لیکوالان کے زیر اہتمام پشاور میں ایک مشاعرے کے بعد شاعر و ادبا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
​ انھوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ بدامنی کو صرف دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ یہ تقسیم صوبائی سطح پر احساسِ محرومی کو جنم دے رہی ہے۔
​انھوں نے کہا کہ تیراہ میں جاری فوجی آپریشن صوبائی حکومت کی مرضی اور علم میں ہے، جس کا مطلب ہے کہ ذمہ داری صرف وفاق پر نہیں بلکہ صوبائی انتظامیہ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ خطے کی جنگی صورتحال کو بعض حلقے اپنے مالی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ امن اور روزگار کی عدم دستیابی نے پختون نوجوانوں کو ایک ایسے بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید مایوسی کا شکار ہیں
انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر ایک ایسا "قومی میثاقِ امن” بنائیں جس میں چھوٹے صوبوں کے تحفظ کو اولیت دی جائے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے