خاندان کو شدید خطرات لاحق ہیں،پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے،پریس کانفرنس

پشاور(کرائم رپورٹر) پشاور کے نواحی علاقے رانو گڑھی کی رہائشی خاتون بینش بی بی بیوہ حاجی سید عالم سوتیلے بیٹوں کے ظلم و ستم کے خلاف پشاور پریس کلب پہنچ گئی۔ پشاور پریس کلب میں بینش بی بی بیوہ حاجی سید عالم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی شریف خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور حاجی سید عالم کی دوسری بیوی ہیں،دو سال قبل ان کے شوہر ہارٹ اٹیک کی وجہ سے انتقال کر گئے جس کے بعد حاجی سید عالم کی پہلی بیوی کے بیٹوں اشفاق خان وقار خان اور سید احمد نے جائیداد کی خاطر قاتلانہ حملے شروع کر دیئے.

بینش بی بی نے بتایا کہ جائیداد مجھے حق مہر میں ملی ہے اور باقاعدہ میرے پاس وراثت بھی موجود ہے جبکہ مرحوم حاجی سید عالم نے تمام بچوں کو اپنی جائیداد وراثت کی ہے اس کے باوجود مجھ سے میری وراثتی جائیداد چھیننے کے لیے قاتلانہ حملے کر رہے ہیں اور مجھے قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سلسلے میں ایک جرگہ بھی ہوا جس میں اشفاق نے ان پر فائرنگ کی اور انہیں دو گولیاں لگیں جبکہ اس واقعہ کی ایف آئی آر بھی درج ہے، علاوہ ازیں 10 نومبر کو میرے سوتیلے بیٹوں نے راولپنڈی سے پشاور آتے ہوئے میرے بھائی انتخاب ولد ظریف پر بھی قاتلانہ حملہ کیا لیکن اس کے ساتھ موجود میرا دوسرا رشتہ دار جعفر حسین گولیاں لگنے سے شہید ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس قتل کی ایف آئی آر بھی میرے سوتیلے بیٹوں کے خلاف تھانہ چمکنی میں درج ہے لیکن با اثر ہونے کی وجہ سے پولیس انہیں گرفتار نہیں کر رہی اور وہ آئے روز مجھے اور میرے چار بچے جن میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے فریاد کرتے ہوئے کہ ان ظالم عناصر کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتی جبکہ اپنے سوتیلے بیٹوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے آج در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں لیکن انہیں انصاف نہیں مل رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میرے ساتھ میرے خاندان کو بھی اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں لیکن پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ میرے قاتل سوتیلے بیٹے علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ بینش بی بی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میرے گھر سے میری جائیداد کے کاغذات بھی میرے سوتیلے بیٹے چوری کر کے لے گئے،جب ہم پٹوار خانے سے کاغذات نکالنے جاتے ہیں تو راستے میں ہمیں روکا جاتا ہے اور ہمیں قتل کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں اور اسلحہ کے زور پر ڈرایا جاتا ہے۔

انہوں نے معصوم بچوں کے ساتھ پشاور پریس کلب کے فورم سے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ،آئی جی پولیس اور اعلیٰ حکومتی اداروں سے درخواست کی کہ مجھے اور میرے بچوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف فراہم کیا جائے۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے