
اسلام آباد: وزیراعلیٰ ہاؤس سے حساس معلومات کے مبینہ اخراج پر حکام نے فوری اور سخت کارروائی کرتے ہوئے 53 اہلکاروں کو تبدیل کر دیا ہے، جبکہ ان کی جگہ فرنٹیئر ریزرو پولیس (FRP) کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سیکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور معلومات کے غیر مجاز بہاؤ کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں وزیراعلیٰ ہاؤس کی اندرونی سرگرمیوں سے متعلق معلومات مسلسل بیرونی حلقوں تک پہنچنے کا انکشاف ہوا، جس پر اعلیٰ حکام نے تشویش کا اظہار کیا۔ ابتدائی تحقیقات کے دوران سپیشل برانچ کے بعض اہلکاروں پر شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ اہم نوعیت کی معلومات غیر متعلقہ افراد، بشمول سابق حکومتی شخصیات، تک منتقل کر رہے تھے۔
اس صورتحال کے پیش نظر فوری انتظامی اقدامات اٹھائے گئے۔ حکام نے نہ صرف مشتبہ اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا بلکہ سیکیورٹی ڈھانچے میں بھی نمایاں تبدیلیاں کیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق فرنٹیئر ریزرو پولیس کے 53 نئے اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد سیکیورٹی میں شفافیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
ایک سینئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “حساس معلومات کا اخراج ریاستی معاملات کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے، اسی لیے فوری ردعمل ضروری تھا۔” تاہم حکام کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو سرکاری دفاتر میں معلومات کے تحفظ اور سیکیورٹی کے حوالے سے ماضی میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، خاص طور پر ان اداروں میں جہاں حساس نوعیت کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر تعیناتی بعض اوقات پیشہ ورانہ شفافیت کو متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث ایسے اقدامات کی ضرورت پیش آتی ہے۔
مزید برآں، ذرائع نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ پشاور میں سپیشل برانچ کی کارکردگی پر پہلے ہی تنقید کی جا رہی تھی، اور اس حالیہ پیش رفت نے ادارے کے اندرونی نظم و نسق پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
عوامی سطح پر اس اقدام کو حکومتی سنجیدگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض حلقے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
فی الحال مزید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید انکشافات اور ممکنہ کارروائیاں سامنے آ سکتی ہیں۔
![]()