امان علی شینواری سے

لنڈیکوتل میں ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر کے کانفرنس ہال میں 21 فروری عالمی مادری زبان دن کے موقع پر پشتو زبان کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم سیمینار منعقد ہوا. تقریب کا اہتمام خیبر اولس کی جانب سے آفتاب شینواری نے کیا جس میں شعراء، ادباء، نوجوانوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی

سیمینار کی صدارت چیئرمین شاہ خالد شینواری نے کی جبکہ آفتاب شینواری، نثار افکار، وسیم اکرم ممتحن، قاسم شینواری اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پشتو زبان کی اہمیت اور افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی مقررین نے کہا کہ پشتو صرف ایک زبان نہیں بلکہ پشتون قوم کی تاریخ،ثقافت، روایات اور ضابطہ اخلاق کی عکاس ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پشتو زبان کو تعلیمی نصاب میں شامل کر کے بارہویں جماعت تک لازمی قرار دیا جائے اور سکولوں میں طلبہ کو مادری زبان میں تعلیم فراہم کی جائے مقررین کا کہنا تھا کہ مادری زبان کو نظر انداز کرنا کسی بھی قوم کی شناخت اور فکری بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے. خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنی زبانوں کو فروغ دے کر ہی ترقی کی منازل طے کی ہیں لہٰذا حکومت پشتو کو درس و تدریس میں باقاعدہ مقام دے اور اسے نصاب کا حصہ بنائے انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ معاشرے میں پشتو بولنے اور لکھنے کے رجحان کو فروغ دیا جائے اور سوشل میڈیا سمیت روزمرہ زندگی میں پشتو کے استعمال کو عام کیا جائے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنی مادری زبان لکھنے سے قاصر ہیں جو لمحہ فکریہ ہے آفتاب شینوای نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق گزشتہ ایک سال میں پشتو زبان میں اٹھارہ ہزار کتب لکھے گئے ہیں اور دنیا بھر میں نو ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہے لیکن پشتو کو ایک خاص مقام حاصل ہے

سیمینار میں عوامی نیشنل پارٹی ضلع خیبر کے سیکرٹری جنرل ستار افغان شینواری، چیئرمین نازک شاہ، حاجی خان شینواری، صدام آفریدی ، کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سابق صدر ملک ریاض، امان اللہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور پشتو زبان کے تحفظ و ترویج کے عزم کا اظہار کیا.

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے