
غزل میں انسانی ہمدردی، برداشت اور امن کا واضح پیغام دیا گیا ہے, گل ورین باچا
امجد ہادی یوسفزئی
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ادارے یواین ایچ سی آر پاکستان نے سال 2025ء کے لیے امید، حوصلے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے موضوع پر مبنی گانوں اور غزلوں کی فہرست جاری کر دی ہے، جس میں پشتو گلوکار گل ورین باچا کی گائی ہوئی ایک غزل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس فہرست کا مقصد موسیقی کے ذریعے انسانی ہمدردی، امن اور برداشت کے پیغامات کو دنیا بھر میں عام کرنا ہے۔
یواین ایچ سی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس فہرست میں شامل پشتو غزل معروف شاعر ڈاکٹر خالق زیاد کی تحریر ہے، جسے گل ورین باچا نے اپنی آواز میں پیش کیا ہے۔ غزل میں امید، امن اور انسان دوستی کے جذبات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے، جس کے باعث اسے مختلف عالمی زبانوں کے گانوں کے ساتھ منتخب کیا گیا۔
اس موسیقی فہرست میں کوک اسٹوڈیو کی عابدہ پروین کا گانا ’تو جھوم‘، ملکہ ترنم نورجہاں کا شہرۂ آفاق گانا ’مجھ سے پہلی سی محبت‘، برطانوی گلوکار مائیکل ببلے کا ’Sway‘، جاپانی راک بینڈ کا ’Wasted Nights‘ اور آسٹریلیا کی معروف گلوکارہ سیا فرلر کا گانا ’Unstoppable‘ بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے اور پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر گل ورین باچا نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کی غزل میں انسانی ہمدردی، برداشت اور امن کا واضح پیغام دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ موسیقی کو امن کی تبلیغ کے لیے ایک مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔
گل ورین باچا نے مزید کہا کہ اگر خلوصِ نیت سے کوئی پیغام دیا جائے تو اسے ضرور پذیرائی ملتی ہے، اور وہ مستقبل میں بھی اسی سوچ کے تحت تخلیقی کام جاری رکھیں گے۔
غزل کے اشعار میں زندگی کے مختلف پہلوؤں، غم اور پریشانی کو برداشت کرنے کے جذبے کو بیان کیا گیا ہے، جبکہ محبوب کے دکھ کو سمجھنے اور اس کے ساتھ جڑے رہنے کا پیغام بھی نمایاں ہے۔ غزل کے مقطع میں محبت کی گہرائی کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ محبت میں سب کچھ قربان کرنے کے باوجود کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کچھ کھو دیا ہے، جو امید اور ایثار کا مضبوط پیغام بن کر سامنے آتا ہے۔
![]()