انصاف کی فوری فراہمی میں ہر ادارے کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، پروفیسر ڈاکٹر شبیر حسین
بنوں (نمائندہ خیبرنامہ) بنوں پولیس کے زیر اہتمام اینٹی ریپ انوسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 کے تحت دو روزہ کپیسٹی بلڈنگ ورکشاپ بنوں میڈیکل کالج میں منعقد ہوئی۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بنوں عمر خطاب خان، ایس پی انویسٹیگیشن ساجد ممتاز،ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر حیات اللہ جان بمعہ پراسیکیوشن سٹاف، ڈین بنوں میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر شبیر حسین، ہاسپٹل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور خان، اور منیجر دارالامان روحی خان سمیت محکمہ پولیس، لاء ڈیپارٹمنٹ، میڈیکل و میڈیکو لیگل افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ڈین بنوں میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر شبیر حسین نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تربیتی سرگرمیاں پولیس، میڈیکل اداروں اور عدالتی نظام کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فوری فراہمی میں ہر ادارے کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اور مربوط عمل سے ہی شفاف نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عمر خطاب خان نے ورکشاپ کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی ریپ ایکٹ جیسے قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے تمام اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور عملی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پولیس اور بنوں میڈیکل کالج کے اشتراک سے اس تربیتی پروگرام کے انعقاد کو سراہا اور اس تسلسل کو برقرار رکھنے پر زور دیا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی انوسٹیگیشن ساجد ممتاز خان نے کہا کہ اینٹی ریپ انوسٹیگیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 انصاف کے فوری اور شفاف نظام کے قیام کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جرم کے ارتکاب سے لے کر عدالت تک، ہر ادارے کا کردار نہایت اہم ہے۔ پولیس جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور قانونی کارروائی کی بنیاد فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ لاء ڈیپارٹمنٹ، پراسیکیوشن، میڈیکل سائنس اور عدالتی نظام کا باہمی تعاون ہی انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔اسی طرح فورنزک ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر اسد اللہ خٹک نے شرکاء کو ریپ کیسز میں فورینزک تفتیش کے جدید طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ فرد کے جسمانی معائنے، ڈی این اے سیمپلز کے حصول، حیاتیاتی شواہد کی شناخت اور ان کی درست لیبارٹری جانچ کے عمل میں سائنسی درستگی اور احتیاط بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ورکشاپ میں بنوں کے مختلف اسپتالوں سے لیڈی میڈیکو لیگل آفیسرز نے بھی شرکت کی۔ شرکاء کو کرائم سین مینجمنٹ، جائے وقوعہ پر فرسٹ ریسپانس، میڈیکو لیگل پروسیجرز اور متاثرین کی بحالی سے متعلق جدید اصولوں سے آگاہ کیا گیا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے