صوبے بھر میں متعدد پولیس اہلکار اور افسران تصاویر، ویڈیوز، لوکیشن اور روزمرہ سرگرمیاں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں جو موجودہ سیکیورٹی حالات میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں
محکمہ پولیس کی جانب سے ماضی میں سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے حوالے سے ہدایات جاری کی جا چکی ہیں تاہم ان پر مکمل عملدرآمد نظر نہیں آتا، رپورٹ

اسلام آباد (رپورٹ فیصل آفریدی) سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا استعمال خیبرپختونخوا پولیس کے لیے ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں متعدد پولیس اہلکار اور افسران اپنی تصاویر، ویڈیوز، لوکیشن اور روزمرہ سرگرمیاں سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں، جو موجودہ سیکیورٹی حالات میں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر سوشل میڈیا پر غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز ناگزیر ہو چکا ہے۔ مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا کے ذریعے اہلکاروں کی شناخت، نقل و حرکت اور تعیناتی کے مقامات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض اہلکار تھانوں، پولیس موبائلوں اور سرکاری دفاتر میں بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ بعض اوقات عام شہریوں کے ساتھ بنائی گئی تصاویر بھی بغیر کسی احتیاط کے اپ لوڈ کر دی جاتی ہیں، جس سے سیکیورٹی خدشات جنم لیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق محکمہ پولیس کی جانب سے ماضی میں سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے حوالے سے ہدایات جاری کی جا چکی ہیں، تاہم کئی مقامات پر ان ہدایات پر مکمل عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کو اپنی لوکیشن، ڈیوٹی کے مقامات اور دیگر حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ معلومات غلط ہاتھوں میں جا سکتی ہیں۔ایک ریٹائرڈ سینئر پولیس افسر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سوشل میڈیا پولیس اہلکاروں کے لیے فائدے سے زیادہ خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے اہلکاروں اور افسران پر زور دیا کہ وہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی حفاظت کو ترجیح دیں اور غیر ضروری سوشل میڈیا سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔سیکیورٹی ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ تھانوں اور دیگر حساس مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے کے بجائے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر توجہ دی جائے تاکہ پولیس فورس کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ نہ ہو۔موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ ضروری ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے افسران اور اہلکار سوشل میڈیا کے استعمال میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کریں اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ معلومات کو غیر ضروری طور پر عوامی سطح پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے