خیبر سے (امان علی شینواری)

کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر مجیب شینواری، چیئرمین معراج الدین اور حاجی منان،عابد خان نے دیگر ایجنٹس کے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر سے وابستہ کسٹم ایجنٹس، تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مزدوروں کے لیے فوری طور پر خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جائے صدر مجیب شینواری نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے خیبرپختونخوا ، خصوصاً ضلع خیبر و لنڈی کوتل کے تقریباً نوے فیصد افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے اور بیشتر خاندان شدید مالی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں ان کے مطابق یومیہ بنیاد پر برآمدات میں تقریباً 2.5 ملین ڈالر جبکہ درآمدات میں 540 ملین روپے تک کا نقصان پاکستان قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ تاجر برادری، ٹرانسپورٹرز، لوکل ٹرانسپورٹ اور مزدور طبقہ اربوں روپے کے مجموعی خسارے سے دوچار و پریشان حال و کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں انہوں نے کہا کہ طورخم بارڈر پر کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس کے دفاتر کے اخراجات اور ملازمین کی تنخواہیں بدستور ادا کرنا پڑتی ہیں مگر کاروبار مکمل بند ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے. مجیب شینواری نے وفاقی سطح پر وزارتِ خارجہ پاکستان، وزارتِ تجارت پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارتِ داخلہ پاکستان سمیت متعلقہ ملٹری و سول حکام سے مطالبہ کیا کہ طورخم بارڈر کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ، فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں باہمی مذاکرات کے ذریعے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکالیں تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں. انہوں نے کہا کہ مقامی تاجر برادری نے افغانستان میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ان کا مکمل معاشی انحصار طورخم بارڈر پر ہے طویل بندش کے باعث نوجوان محنت کش، مزدور اور کاروباری افراد شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا ہیں

پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ ان کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور وہ مقامی حالات سے بخوبی آگاہ ہیں اس لیے صوبائی سطح پر بھی بارڈر بندش سے متاثرہ طبقہ کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج اقدامات کیے جائیں تاہم مقررین نے واضح کیا کہ طورخم بارڈر وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے اور اس مسئلے کا بنیادی حل اسلام آباد اور کابل کے درمیان سفارتی سطح پر نکالا جانا ضروری ہے اگر ضرورت پڑی تو ہم قبائلی جرگہ کے ذریعے بھی ہر قسم کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں

آخر میں خبردار کیا گیا کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو مقامی سطح پر معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے جس کے منفی اثرات تاجروں، نوجوانوں اور محنت کش طبقے پر مرتب ہوں گے انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات اور بارڈر کھولنے کے لیے عملی پیش رفت کا مطالبہ کیا.

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے