محکمۂ ثقافت کے اجلاس میں ترقیاتی پروپوزلز پر اہم فیصلے، فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کو ریلیف دینے کا عندیہ

محکمۂ ثقافت، سیاحت و آثارِ قدیمہ کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت ایڈیشنل سیکرٹری رحیم اللہ خان نے کی۔ اجلاس کا بنیادی محور پاکستان ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، رائٹرز اینڈ آرٹسٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے آٹھ ماہ قبل مرتب کرکے جمع کرائے گئے ترقیاتی پروپوزلز تھے، جو پہلے ہی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ بن چکے ہیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر کلچر شاہنواز نوید اور ڈپٹی ڈائریکٹر کلچر حسینہ شوکت نے ایڈیشنل سیکرٹری کی معاونت کی۔

ایسوسی ایشن کے وفد کی قیادت چیئرمین سجاد علی اورکزئی نے کی، جبکہ وفد میں رشید احمد سہیل پراچہ، اشفاق احمد طورو، بشرہ فرح، افشین زمان، تابندہ فرخ، جاوید عزیز خلجی، عمر حیات، منظور خان، احمد بخاری، امجد ہادی یوسفزئی اور نور رحمان شامل تھے۔

اجلاس کے دوران پیش کردہ پروپوزلز کی روشنی میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد کو درپیش پیشہ ورانہ مسائل، فلاح و بہبود کے تقاضے، انتظامی و مالی رکاوٹیں، سرکاری سرپرستی کے فقدان اور تخلیقی امکانات کے فروغ جیسے اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منصوبہ جاتی تجاویز کو محکمہ جاتی سطح پر عملی شکل دینے کے مراحل اور امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔

اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر کلچر حسینہ شوکت نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ مذکورہ پروپوزلز کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری رحیم اللہ خان نے تجاویز کو سراہتے ہوئے انہیں قابلِ عمل اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ قرار دیا اور ڈائریکٹر کلچر کو ہدایت کی کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ فن و ثقافت سے وابستہ افراد کو عملی طور پر جلد از جلد ثمرات فراہم کیے جا سکیں۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے