گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نئے سال 2026 کے آغاز پر بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی، امن و امان اور تعلیمی ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف تقریبات اور ملاقاتوں میں شرکت کی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد صوبے میں بھائی چارے، رواداری اور مشترکہ قومی اقدار کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
نئے سال کے موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے سینٹ جانز کیتھیڈرل چرچ پشاور کینٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے بشپ ہمفرے سرفراز پیٹر اور مسیحی برادری کے ہمراہ نئے سال 2026 کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر ملکی سلامتی، امن و امان، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ گورنر نے مسیحی برادری سمیت تمام اقلیتوں اور صوبے کے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت پاکستانی ہماری خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں۔ انہوں نے مسیحی برادری کی حب الوطنی اور ملک کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ نیا سال نفرتوں کے خاتمے اور بھائی چارے کے فروغ کا پیغام لے کر آئے گا۔
اسی روز گورنر ہاؤس پشاور میں 18ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے دورہ کیا۔ وفد کی قیادت بریگیڈیئر بلال غفور کر رہے تھے جبکہ شرکاء میں بلوچستان کی مختلف جامعات کے طلبہ اور فیکلٹی اراکین شامل تھے۔ ملاقات کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے سال کی مبارکباد دی۔ گفتگو میں صوبے میں امن و امان، دہشت گردی کے خاتمے، تعلیمی شعبے کی ترقی، یونیورسٹیوں کے مسائل اور قدرتی وسائل سمیت مختلف موضوعات زیر بحث آئے۔ گورنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی ثقافت مشترکہ ہے اور دونوں صوبے افغان سرحد سے منسلک ہونے کے باعث سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا پولیس کو ایک بہادر اور پیشہ ور فورس قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملنے والے وسائل سے پولیس کی استعداد کار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن ناگزیر ہیں۔
گورنر نے تعلیمی شعبے پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی 34 پبلک سیکٹر جامعات کے لیے بجٹ میں چار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تاہم مطلوبہ نتائج کے لیے مزید سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور یہی نوجوان اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔
بعد ازاں گورنر ہاؤس پشاور میں پیپلز پارٹی مینارٹی ویمن ونگ کی جانب سے کرسمس اور نئے سال 2026 کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں پی پی پی مینارٹی ویمن ونگ کی ڈویژنل صدر فرح شاہد، پارٹی عہدیداران، مسیحی برادری، خواتین اور بچوں نے شرکت کی جبکہ بچوں کی جانب سے خوبصورت ٹیبلوز بھی پیش کیے گئے۔ اس موقع پر گورنر نے مسیحی برادری کے ہمراہ کیک کاٹا اور خطاب میں کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت اور سماجی خدمت کے شعبوں میں مسیحی برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے دعا کی کہ نیا سال ملک میں امن، ترقی، خوشحالی اور باہمی محبت کا سال ثابت ہو۔
تقریب کے اختتام پر گورنر خیبر پختونخوا نے بچوں میں تحائف تقسیم کیے، منتظمین کو شیلڈز دیں اور سانتا کلاز کی جانب سے پیش کیے گئے خصوصی تحفے کو خوش دلی سے قبول کیا۔ مجموعی طور پر یہ تمام سرگرمیاں صوبے میں ہم آہنگی، رواداری اور مشترکہ قومی مقصد کے لیے یکجہتی کے عملی اظہار کی عکاس

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے