ٹھیکیدار کروڑوں لینے کے باوجود 12 کلومیٹر سے آگے سڑک تعمیر نہیں کر سکا، پریس کانفرنس
پشاور(نیوز رپورٹر) تورکھو تریچ روڈ فورم کے چیئرمین عمیر خلیل نے چترالی عمائدین طاہر شادان، شمس النبی و دیگر کے ساتھ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تورکھو تریچ روڈ چترال، ٹھیکے دار 26 کروڑ 66 لاکھ روپے لینے کے باوجود بھی 12 کلومیٹر سے آگے سڑک تعمیر نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جب بھی سڑک کی تعمیر کیلئے آواز بلند کی جاتی ہے تو چترالیوں کے خلاف پرچے کاٹے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قاقلسشٹ سے رائین سڑک منصوبے کی تاخیر اور ناقص کارکردگی اور انتظامیہ کی غفلت کے باعث عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تور کھو تریچ کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے اس سڑک کی تکمیل کے منتظر ہیں مگر ٹھیکے داروں،محکمے اور انتظامیہ کی عدم دلچسپی نے عوام کو مایوس کردیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ جلد از جلد اسلفٹ مشین فوری طور پر سائیٹ پر پہنچائے تاکہ روڈ پر کام کا آغاز ہو سکے اور قاقلسشٹ سیرین تک روڈ کو منظور شدہ پی سی ون کے مطابق مکمل کیا جائے۔چترالی عمائدین نے مزید کہا کہ عوام کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اب وعدوں اور اعلانات کی بجائے عملی پیشرفت ہونی چاہئے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین زمین کو ان کا جائز لینڈ کمپنسیشن فوری طور پر ادا کیا جائے اور پولیس ڈیپارٹمنٹ اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کو بحال کرنے کے لیے ایسے ایچ او اور ایس جی پی او کے تبادلے کیے جائیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے ایک ہفتے کے اندر اندر عملی اقدامات نہ کیے تو طور کھو تریج روڈ فورم مندرجزیل مقامات پر پرامن دھرنے اور احتجاجی تحریک کا آغاز کرے گی جن میں پشاور پریس کلب،ڈی سی ہاؤس اپر چترال،دفتر سی این ڈبلیو اور رائین کا مقام شامل ہے۔اگر حکومت اور متعلقہ ادارے سنجیدہ نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ضلع اور صوبے تک بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سالوں سے روڈ تعمیر نہ ہونا حکومت کی نااہلی ہے کیونکہ چترال کے عوام پاکستان کے سٹیک ہولڈر ہیں اور انہیں مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تو ٹھیکے داروں نے 38 کروڑ سے 1ارب تک بات پہنچا دی ہے لیکن ٹھیکے داروں کی نااہلی کی وجہ سے چترال کے عوام ذلیل و خوار ہو رہے ہیں لہذا صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرف توجہ دے اور یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

![]()