
تحریر: سردار یوسفزئی
سینئر صحافی اور جنرل سیکرٹری پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد،
گوہرمحسود کے والدِ محترم، ریٹائرڈ تحصیلدار ابراہیم خان گرڑائ گزشتہ روز رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ سی ڈی اے قبرستان، نزد امتیاز مارٹ بارہ کہو میں ادا کی گئی۔ ان کی وفات نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ وسیع حلقۂ احباب اور علاقے کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
ابراہیم خان گرڑائی مرحوم اپنی سروس کے دوران ایک ایماندار، فرض شناس اور باوقار افسر کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
پولیٹیکل انتظامیہ جنوبی وزیرستان اپر میں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں نہایت دیانت، انصاف اور جراتِ کردار کے ساتھ ادا کیں۔ وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے انسان تھے اور حق و سچ کا ساتھ دینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ سرکاری منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے کبھی ذاتی مفاد کو ترجیح نہیں دی بلکہ عوامی خدمت کو عبادت کا درجہ دیا۔
مرحوم کی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کی حلال کمائی اور پاکیزہ طرزِ زندگی تھا۔ انہوں نے ساری عمر رزقِ حلال کمایا اور اپنی اولاد کو بھی دیانت، سچائی اور امانت کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد آج معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ جانی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اعلیٰ اخلاقی اقدار پر کی اور محنت، انسانیت سے محبت اور خدمتِ خلق کو زندگی کا شعار بنایا۔
قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ محض ایک سرکاری افسر نہیں رہے بلکہ ایک مصلح، ثالث اور امن کے داعی کے طور پر پہچانے گئے۔ انہوں نے قبائلی روایات اور اقدار کو سمجھتے ہوئے جرگوں کے ذریعے پیچیدہ تنازعات کو سلجھایا، راضی ناموں کو فروغ دیا اور لوگوں کے درمیان بھائی چارہ اور اعتماد قائم کیا۔ ان کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے کھلا رہتا تھا۔ وہ انصاف کو طاقت کے بجائے دلیل، تدبر اور دانائی سے قائم کرنے پر یقین رکھتے تھے۔
اپنے علاقے میں انہیں ایک منفرد مقام اور بے پناہ احترام حاصل تھا۔ وہ امن کے دلدادہ اور بدامنی کے سخت مخالف تھے۔ تشدد اور نفرت کے خلاف ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک تھا، جبکہ مکالمہ، مصالحت اور قانون کی بالادستی ان کا عملی شعار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی انہیں ایک ایسے باکردار انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں جس نے مشکل حالات میں بھی امن کی شمع روشن رکھی۔
اللہ تعالیٰ نے مرحوم کو تین بیٹوں—گوہر محسود، طاہر محسود، اعجاز محسود—اور تین بیٹیوں سے نوازا۔ انہوں نے اپنی اولاد کی پرورش صرف دنیاوی کامیابی کے لیے نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم، بہترین اخلاق اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کی۔ ان کے بڑے صاحبزادے گوہر محسود شعبۂ صحافت سے وابستہ ایک سینئر صحافی ہیں، جو قومی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ بطور جنرل سیکرٹری پختون جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد، انہوں نے صحافتی برادری کی نمائندگی دیانت، جرات اور ذمہ داری کے ساتھ کی ہے۔
یہ گوہر محسود کی خوش نصیبی اور سعادت ہے کہ انہوں نے زندگی کے آخری چند برسوں میں اپنے والدین کو اسلام آباد میں اپنے ساتھ رکھا اور خدمتِ والدین کو اپنا اولین فرض سمجھا۔ انہوں نے نہ صرف روزمرہ دیکھ بھال کی بلکہ علاج و معالجے اور صحت کے ہر پہلو پر بھرپور توجہ دی۔ مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے باوجود صبر، محبت اور خلوص کے ساتھ والدین کے شانہ بشانہ رہے اور یوں عملی طور پر خدمتِ والدین کی ایک روشن مثال قائم کی۔ بلاشبہ والدین کی دعائیں ان کے لیے عظیم سرمایہ ہیں اور یہی مرحوم کے لیے بھی سب سے بڑا اطمینان اور صدقۂ جاریہ ہے۔
تحصیلدار ابراہیم خان گرڑائی مرحوم کی زندگی دیانت، خدمت، امن اور اعلیٰ اخلاق کی ایک مکمل داستان تھی۔ وہ چلے گئے، مگر اپنی کردار کی خوشبو، امن کی روایت اور نیک نامی کا سرمایہ چھوڑ گئے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
![]()