پشاور (مدثر زیب)
پشاور پریس کلب میں معروف قانون دان اور عوامی رہنما مرحوم عبداللطیف آفریدی کی تیسری برسی کے موقع پر ایک شاندار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی، سماجی، قانونی اور ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
سیمینار میں افراسیاب خٹک، نورالبشر نوید، محسن داوڑ، بلال داوڑ، جمیلہ گیلانی، فضل رحیم مروت اور مرحوم لطیف آفریدی کے صاحبزادے حنیف آفریدی ایڈووکیٹ نے شرکت کی۔ مقررین نے مرحوم کی جدوجہد، اصول پسندی اور عوامی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ لطیف آفریدی ایک ایسی جرات مند اور اصولی شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا عملی ثبوت دیا اور انصاف کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ عدالتی اور سیاسی میدان میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں، وہ پسے ہوئے اور محروم طبقات کی توانا آواز تھے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ لطیف آفریدی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کے قیام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ہمیشہ مثبت اور مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کی قانونی خدمات اور پختون قوم کے لیے جدوجہد کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مشہور پشتو دانشور اور لکھاری نورالبشر نوید نے کہا کہ آج اگرچہ لطیف آفریدی ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی فکر، جدوجہد اور نظریہ آج بھی زندہ ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ آج بھی ان کی عظیم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہیں۔
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لطیف آفریدی ہمیشہ حق کے ساتھ کھڑے رہے اور مظلوموں کی عملی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں جاری آپریشنز کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے، لہٰذا صوبائی حکومت کو چاہیے کہ امن کے قیام کے لیے تمام قسم کے آپریشنز بند کیے جائیں۔
مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ لطیف آفریدی کا جلایا ہوا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے