
اسلام آباد (سردار یوسفزئی)
اکادمی ادبیات پاکستان، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسلام آباد کے زیرِ اہتمام اہلِ قلم کے لیے دوسرے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا افتتاحی اجلاس 16 جنوری 2026 کو صبح 10:30 بجے شیخ ایاز کانفرنس ہال میں نہایت وقار، سنجیدگی اور ادبی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس بامقصد ادبی تقریب میں ملک بھر سے منتخب ادیبوں، شاعروں اور دانش وروں نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد قاری عبدالشکور نے تلاوتِ کلامِ پاک کی، جب کہ عبدالحسیب نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانی فضا عطا کی۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت نامور شاعر افتخار عارف نے کی۔ مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت محمد اورنگزیب خان کچھی تھے، جب کہ وفاقی سیکریٹری قومی ورثہ و ثقافت اسد الرحمن گیلانی نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی۔ کلیدی خطبہ ممتاز فکشن نگار محمد حفیظ خان نے دیا، جب کہ نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے انجام دیے۔
صدرنشین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے خطبۂ استقبالیہ میں اقامتی منصوبے کے اغراض و مقاصد، ادبی و فکری افادیت اور اہلِ قلم کے لیے اس کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف تخلیقی اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ ملک کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں کے درمیان مکالمے، ہم آہنگی اور فکری اشتراک کو بھی فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کی جاری ادبی سرگرمیوں اور مستقبل کے منصوبوں کا بھی تعارف کرایا۔
اس موقع پر ملک کے مختلف صوبوں اور خطوں سے آئے ہوئے اہلِ قلم نے اپنا تعارف پیش کیا، جس سے تقریب کو بین الصوبائی نمائندگی اور قومی وحدت کا رنگ ملا۔ مقررین نے اقامتی منصوبے کو تخلیقی مکالمے، ادبی یکجہتی اور فکری بالیدگی کے فروغ کے لیے ایک سنجیدہ اور دیرپا قومی کاوش قرار دیا۔
کلیدی مقرر محمد حفیظ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ اقامتی منصوبہ محض ایک رسمی ادبی سرگرمی نہیں بلکہ تخلیق، فکر اور مکالمے کا ایک بامعنی اور مؤثر پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی ادب سطحی تاثر سے آگے بڑھ کر گہرائی میں اترتا ہے اور ادیب کا اصل کام زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کو قابلِ فہم اور سادہ انداز میں پیش کرنا ہے۔
وفاقی سیکریٹری اسد الرحمن گیلانی نے ڈاکٹر نجیبہ عارف کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان کو مؤثر، باوقار اور فکری سمت کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے اکادمی کی ادبی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر محمد اورنگزیب خان کچھی نے اپنے خطاب میں نوجوانوں اور بالخصوص نوجوان خواتین کو قوم کا روشن مستقبل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اہلِ قلم کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق اہلِ قلم کے وظائف 13 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کرنے کے لیے وزیرِاعظم پاکستان کو باضابطہ درخواست ارسال کی جا چکی ہے، جو حکومت کے ادبی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔
صدرِ اجلاس افتخار عارف نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کوئی بھی ادب اس وقت تک آفاقی حیثیت اختیار نہیں کر سکتا جب تک وہ اپنی مقامی ثقافت، زبان اور تجربے سے جڑا نہ ہو۔ انہوں نے اقامتی منصوبے جیسے اقدامات کو ادب کے فروغ اور تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے اکادمی ادبیات پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔
تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ یہ اقامتی منصوبہ اہلِ قلم کو تخلیقی یکسوئی، فکری تبادلے اور قومی سطح پر ادبی روابط کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
![]()