
سینٹرل کرم میں ایک ہفتے سے جاری غیر اعلانیہ فوجی آپریشن نے پورے علاقے کو انسانی المیے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ہزاروں شہری، جن میں مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں، اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر سڑکوں اور کھلے میدانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمائدین کے سربراہ پٹھان عبدالخالق نے کہا:> “ہمیں نہ ٹینٹ چاہیے، نہ پیکجز — ہمیں صرف اپنے گھروں کو باعزت واپسی چاہیے۔”انہوں نے بتایا کہ "آپریشن کی زد میں عام لوگ آ رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند ہیں، سڑکیں بند ہیں اور زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔ متاثرین کے پاس نہ خوراک ہے، نہ پانی، نہ طبی امداد۔”—پرانے زخم پھر تازہعمائدین نے کہا کہ 2009 اور 2014 کے آپریشنز کی تاریخ دہرا دی گئی ہے۔> “اس وقت بھی وعدے ہوئے تھے، معاوضے کا اعلان ہوا تھا، لیکن آج تک کچھ نہیں ملا۔ اب پھر وہی ظلم، وہی حالات ہیں۔”انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت "کرسیوں کی سیاست” میں مصروف ہے جبکہ عوام دربدر ہیں۔—مطالبات کی تفصیلعمائدین نے چار نکاتی مطالبات پیش کیے:1️⃣ بلاامتیاز بمباری اور کارروائیاں فوری بند کی جائیں۔2️⃣ متاثرین کو انسانی امداد اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔3️⃣ نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جائے۔4️⃣ واپسی کے لیے شفاف پلان اور سڑکوں کی بحالی یقینی بنائی جائے۔> “ہمیں کیمپ نہیں، اپنی زمین اور عزت چاہیے۔” — پٹھان عبدالخالق—پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپعمائدین نے اعلان کیا کہ پشاور پریس کلب کے سامنے دھرنا مسئلے کے حل تک جاری رہے گا۔پٹھان عبدالخالق نے کہا:> “اگر مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ہم بمباری میں شہید ہونے والے دو ہزار قرآن پاک کے نسخے لے کر کور کمانڈر پشاور کے پاس جائیں گے۔ اگر وہاں بھی شنوائی نہ ہوئی تو چیف آف آرمی اسٹاف کے سامنے پیش ہوں گے، اور آخرکار اسلام آباد کی طرف پیدل مارچ کریں گے۔”—علاقے میں انسانی بحرانمقامی ذرائع کے مطابق سینٹرل کرم کے کئی دیہاتوں میں خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔قبائلی عمائدین نے اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کمیشن اور حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں تاکہ انسانی بحران مزید نہ بڑھے۔
![]()