پارٹیز کانفرنس میں صوبے بھر سے تمام سٹیک ہولڈر شرکت کریں گے۔ حاجی زبیر علی

پشاورگزشتہ چار مالی سالوں کے دوران پی ایف سی ایوارڈ کے تحت مقامی حکومتوں کو مسلسل فنڈ کے اجرا کی بندش اور اور صوبائی حکومت کی جانب سے نچلی سطح پر اختیارات منتقل ہونے کے باوجود اختیارات چھیننے کے خلاف لوکل کونسل ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ نےکل منگل کے روز بوقت دو بجے بمقام میٹروپولیٹن کونسل ہال باچا خان چوک پشاور میں ال پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے جا رہی ہے جس کی قیادت میئر پشاور حاجی زبیر علی کریں گے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لوکل کونسل ایسوسییشن خیبر پختون خواہ کے صدر اور میئر مردان حمایت اللہ مایار نے کہا کہ خیبر پختون خواہ حکومت نے اختیارات کی نیچلی سطح کو منتقلی کے بعد مقامی حکومتوں کو کبھی بھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور نہ وہ اس کے لیے تیار ہے کیونکہ گزشتہ 12 سالوں سے پی ٹی ائی کی حکومت خیبر پختون خواہ میں برسر اقتدار ہے لیکن چار مالی سالوں سے مقامی حکومتوں کو پی ایف سی ایوارڈ کے تحت ایک پیسہ فنڈ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے خیبر پختون خواہ کے 29 ہزار نمائندگان عوامی خدمت کرنے سے محروم ہے۔ اس موقع پر میئر پشاور حاجی زبیر علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جو عمران خان کے ویژن پر چلنے کا دعوی کرتی ہے وہ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں الٹے راستے پر چل رہی ہے صوبے بھر کے مقامی حکومتوں کے نمائندگان کو اس وجہ سے فنڈ فراہم نہیں کیا جا رہا کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت مقامی حکومتوں میں اقلیت ہے اور اس کا ملال تحریک انصاف کو ہے انہوں نے کہا کہ تین یا چار مرحلے کا گھر ہو تو اس کے نقشے کے لیے بھی مالاکنڈ اور دور دراز کے علاقوں سے اب نقشہ پاس کرنے کے لیے لوگوں کو پشاور انا پڑے گا یہ کہاں کا انصاف ہے ایک طرف فنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف عوام کو مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے مقامی حکومتوں کے فنڈ کے لیے احتجاج کیا دھرنے دیے اور صوبائی اسمبلی کے سامنے ہم پر ناروال لاٹھی چارج کیا گیا اور ہمارے اوپر مقدمات قائم کیے گئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایسے جواب دیے جا رہے ہیں کہ ان کو تو چاہیے تھا کہ یہ ہمیں پیار محبت سے جواب دیتے ہیں اور ہمارے مطالبات مانتے ہیں اور ہمارے مطالبات کیا تھے ہم نے عوام کے لیے اواز بلند کرنی تھی اور پی ایف سی فنڈ کے تحت مقامتی حکومتوں کو مستحکم کرنا تھا لیکن شروع دن سے پی ٹی ائی کی کوشش رہی ہے کہ مقامی حکومتوں کے ہاتھ کاٹے جائیں اور انہیں اپنا غلام بنایا جائے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ائین میں ہے کہ پہلے سینٹ پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی عام قانون سازی کریں گی جبکہ عوام کے خدمت مقامی حکومت کرے گی لیکن پی ٹی ائی کے 12 سال حکومت میں مقامی حکومتوں کو تسلیم نہ کرنا یہ ائین کی اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل کے روز ہونے والی ال پارٹیز کانفرنس میں ہم نے صوبے بھر کی اپوزیشن جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے اور برسر اقتدار جماعتوں کو بھی اور ہم نے انہیں یاد دلانا ہے کہ ہم نے عوام کی خدمت کی ہے جو اپ نے اپنے منشور میں عوام کو پیش کیا تھا الیکشن میں اور ہم نے پی ٹی ائی کو بھی یاد دلانا ہے کہ اپ نے تو سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے نہ ہمیں فنڈ فراہم کیا جا رہا ہے اور نہ ہمیں تسلیم کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب ال پارٹیز کانفرنس کہ اعلامیہ میں اگلے اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

Loading

Related Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے