دیوانہ بابا تھانہ کی پولیس تاحال ایف آئی آر درج نہ کر سکی،رحیم داد کی پشاور پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو

پشاور(مدثر زیب سے) ضلع بونیر کا رہائشی بیٹی کے قاتل سسرالیوں اور اپنی جان کو لاحق خطرات بارے اعلیٰ حکام سے مدد کیلئے پشاورپریس کلب پہنچ گیا۔بونیر، دیوانہ بابا کا رہائشی رحیم داد ساکن کلیاڑی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کے بارے میں صحافیوں کو بتایا کہ میری بیٹی کی غیروں میں شادی ہوئی۔ شادی کے چھ ماہ تک تعلقات خوشگوار رہے بعدازاں تلخیاں پیدا ہوتی گئیں، تین سال تک میری بیٹی سسرالیوں کا ہر ظلم و ستم برداشت کرتی رہی، ہم سب خون کے آنسو روتے رہے لیکن بیٹی کا گھر بسنے کے خواہاں تھے۔ بے انتہا ظلم کے بعد میری بیٹی میکے آ گئی، اس دوران چھ ماہ گزر گئے جس کے بعد داماد مجیب شاہ ولد ایوب شاہ نے جرگہ بھیجا، جرگہ کی یقین دہانی پر ہم نے اپنی بیٹی ان کے ساتھ رخصت کر دی لیکن ہمیں معلوم نہ تھا کہ پھر میری بیٹی کبھی واپس نہ آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چھ ماہ بعد میری بیوی بیٹی کو ملنے گئی تو ان لوگوں نے دونوں ماں بیٹی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، گزشتہ برس عدالت میں صلح صفائی ہوئی جس کے باقاعدہ ضامن بھی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے اس صلح پر کسی قسم کا کوئی عملدرآمد نہ ہو سکا، اس راضی نامے کے پانچ ماہ بعد میری بیٹی کو قتل کر دیا گیا اور دیوانہ بابا ہسپتال میں رپورٹ خودکشی کی کرائی گئی جو کہ سراسر غلط ہے۔ بیٹی کے انتقال کے بعد ان لوگوں اور سرکاری عملے نے ہمیں اطلاع تک نہ دی۔ رحیم داد نے بتایا کہ میں محنت مزدوری کی غرض سے ضلع سے باہر تھا، مجھے بیٹے کی زبانی جب بیٹی کی فوتگی کی اطلاع ملی تو میں ہسپتال پہنچا۔ میرے داماد اور دیگر لوگوں نے اپنے دفاع اور رپورٹ درج نہ کروانے کیلئے روڈ کو بلاک کر رکھا تھا۔ میرے استفسار پر محلے داروں نے بتایا کہ میری بیٹی کی حالت زیادہ خراب نہ تھی لیکن ڈاکٹر نے بروقت ڈیوٹی ادا نہ کی۔ میرے پوچھنے پر ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ دیوانہ بابا سے ڈگر تک ڈیڈ باڈی لے کر آئے تھے، اسی دوران اے سی اور ڈی سی بھی پہنچ گئے مگر مجھے نہ بتایا گیا اور نہ ہی پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ میرے برخلاف نے میرے خلاف کاگرہ کے ایس ایچ او نور زمان کو سفارش کی تھی جبکہ تاحال ہماری ایف آئی آر آر درج نہ کی جا سکی۔ انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ان لوگوں نے میری بیٹی کی نعش کو روڈ پر کیوں رکھا ایمبولینس آنے پر اس کو دوبارہ دیوانہ بابا ہسپتال منتقل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ افراد مجھے زبردستی کمرے میں لے گئے، اور مجھ سے زبردستی انگوٹھے لگوائے گئے، مجھے کہا گیا کہ ہم ان کے خلاف ایف آئی آر کروائیں گے، بعدازاں میری برادری کے لوگوں کے آنے پر پولیس نے ان سے بھی زبردستی انگوٹھے لگوائے۔ دوسرے دن ہمیں معلوم ہوا کہ رپورٹ الٹا ہمارے خلاف لکھی گئی تھی اور ہمیں دھوکہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس زبردستی کیخلاف ڈی پی او کو درخواست دی، ایس پی کو مارک ہوئی جس نے بعد میں بتایا کہ پوسٹ مارٹم کی اجازت عدالت نہیں دے رہی، ڈی پی او کے کہنے پر ہمیں رپورٹ کی جو کاپی مہیا کی گئی اس رپورٹ میں لکھا تھا کہ گندم کی گولی کھا کے فوت ہوئی، جبکہ دوسری رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ چوہوں کی گولیاں کھا کر انتقال کر گئی۔ ہم نے دوبارہ سیشن جج کو رپورٹ کی، سیشن جج نے ڈاکٹر اور ایس ایچ او کاگرہ نور زمان کو طلب کیا، ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں میری بیٹی کو پاگل لکھا، انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے داماد نے دھمکی دی کہ جیسا تمہاری بیٹی کا حال کیا ہے ویسا ہی تمہارا حال ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ اب جبکہ میری بیٹی ہی اس دنیا میں نہیں رہی، ظالموں نے اسے جان سے مار ڈالا اور اب داؤد خان ولد شیر اللہ، سہراب ولد مرید خان، بخت جمیل ولد زر جمیل، داؤد خان ولد صاحبزادہ مجھے بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، ان لوگوں کے ڈر کی وجہ سے میں گھر سے باہر نہیں آ سکتا جبکہ پولیس بھی میری رپورٹ درج نہیں کرتی۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کو جان سے مارنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے