میرا بھائی نور محمد اثرورسوخ کا مالک اور منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہے، سعدیہ آفریدی
پولیس تعاون نہیں کرتی، مخالف کو تھانے میں چائے پیش کی جاتی ہے،پشاور پریس کلب میں فریاد
پشاور(مدثرزیب سے) نوشہرہ کے رہائشی میاں بیوی بیٹے اور بھائی کے مظالم کے خلاف پشاور پریس کلب پہنچ گئے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شکیل احمد اور بیوی سعدیہ آفریدی نے بتایا کہ 6 جنوری کو میرا بیٹا شہزاد میرے سالے نور محمداور اپنے سسر عطاء اللہ کے ساتھ ہمارے گھر آئے۔ رات کو جب ہم محو خواب تھے مذکورہ افراد نے ہم پر بے ہوشی کا سپرے کیا اور گھر سے آلٹو گاڑی، آٹھ لاکھ روپے نقدی، دو تولے سونا،میرا لائسنس یافتہ پستول اور گھر کے کاغذات وغیرہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اس کے بعد تورڈھیر میں میری دکان پر گئے اور دکان میں موجود کپڑے، سولر اور بیٹریاں وغیرہ بھی لے کررفوچکر ہوگئے۔

شکیل نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ میرا سالہ نور محمد اثرورسوخ کا مالک ہے اور منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہے جبکہ اس کا دوسرا بزنس جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوانا ہے۔ انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تھانہ نوشہرہ کینٹ میں مختیار نامی اے ایس آئی جو اس کیس کا انوسٹی گیشن آفیسر ہے، ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتا ہم میاں بیوی جب تھانے جاتے ہیں تو ہمیں بے عزت کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے مخالفین کو چائے پیش کی جاتی ہے اور عزت و تکریم سے نوازا جاتا ہے۔شکیل نے بتایا کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ میں تمہیں الٹا لٹکا دوں گا۔ خاتون سعدیہ آفریدی نے بتایا کہ میرے بیٹے شہزاد نے میرے سگے بھائی نور محمد جو منشیات کا کاروبار کرتا ہے کے کہنے پر گھر سے چوری کی اوراس کے ساتھ اس کا سسر عطاء اللہ بھی تھا۔انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی،آئی جی پی و دیگر افسران سے مطالبہ کیا کہ ہمیں نور محمد، عطاء اللہ اور شہزاد سے تحفظ دیا جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات کر کے ظالم کوسزا دی جائے جبکہ میرا لوٹا گیا سامان مجھے واپس دلایا جائے۔
![]()