ڈیپارٹمنٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی اسسٹنٹ پروفیسر میڈم فاطمہ سے خصوصی گفتگو

پشاور(انٹرویو: مدثر زیب)
شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی کااپنے قیام سے لیکر تاحال خواتین کی تعلیم میںایک اہم کردار رہا ہے، یونیورسٹی کے24 شعبے ہیں جن میں کمیونیکیشن ڈیزائن، فیشن ڈیزائن، ٹیکسٹائل ڈیزائن، پینٹنگ سمیت دیگر شامل ہیں۔ ان ہی شعبہ جات میں ایک شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن ہے جس میں سینکڑوں طالبات تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھ رہی ہیں۔
2015ء سے شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سرانجام دینے والی شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کی ممبر میڈم فاطمہ نے ”خیبرنامہ” سے خصوصی گفتگو کی ہے۔ ”خیبرنامہ” کے نمائندہ مدثر زیب کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کا تعارف کرایا اور یونیورسٹی کے دیگر شعبہ جات کے بارے میں بریفنگ دی۔
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن میڈم فاطمہ نے بتایا کہ شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن آرٹسٹک پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے، جس میں ایگزیبیشنز، ورکشاپس، اور سمینارز شامل ہیں۔ شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کریٹو آرٹس کی تحقیق کو فروغ دیتا ہے اور اس کے نتائج کو شائع کرتا ہے۔
آرٹ ٹیچرمیڈم فاطمہ نے بتایا کہ شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن تخلیقی کاموں کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے، جس میں آرٹسٹ، ڈیزائنرز، اور کریٹو پروفیشنلز کی حمایت شامل ہے جبکہ یہ ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ثقافتی ورثے کی حفاظت اور تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔
ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے دوران انٹرویو میڈم فاطمہ نے بتایا کہ شروع دنوںمیں شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن میں سٹوڈنٹس کی تعداد کم تھی لیکن بتدریج اس میں اضافہ ہوتا گیا، اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں سہولیات کی کمی ہے، اگر سہولیات بہم پہنچائی جائیں تو شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن باقی ملک کی خواتین کی طرح خیبرپختونوا کی خواتین بھی کسی میدان میں پیچھے نہیں رہیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ شعبہ بچیوں کیلئے بہت اچھا ہے کیونکہ وہ گھر بیٹھے ہی آن لائن کام کر کے اپنے کام کو فروغ دے سکتی ہیں۔
میڈم فاطمہ نے بتایا کہ لاہور، کراچی، سمیت ملک کے دیگر شہر ہم سے بہت آگے ہیں جو چیز یہاں آتی ہے وہ دیگر شہروں میں پانچ سال پہلے ہی پڑھائی جا چکی ہوتی ہے، یہاں مواقع کم ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو چیز کراچی میں چل رہی ہے وہ یہاں کیوں نہیں چل رہی۔ والدین کو اپنے بچوں کو سپورٹس کرنا چاہئے، اور اپنی بچیوں کو شعبہ آرٹ اینڈ ڈیزائن کی جانب راغب کرنا چاہئے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کو عوام کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے، انہیں تاریخی اور ثقافتی ورثے کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے ورکشاپز، سمینارز، اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیے مستقبل بہت روشن ہے، کیونکہ وہ پاکستان کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں اور عوام کو اس کے بارے میں آگاہ کر رہے ہیں۔
میڈم فاطمہ نے آرٹ اینڈ ڈیزائن کی طالبات کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں مواقع بہت زیادہ ہیں۔ مقابلہ بازی کی فضا زیادہ نہیں ہے، فیمیل آرٹسٹس، فیمیل ڈیزائنرز کی تعداد خیبرپختونخوا میں بہت کم ہے۔ تعداد کم ہے لیکن مواقع بہت زیاد ہ ہیں، اگر اس فیلڈمیں آنا ہو تو بہت جلدی اپنی جگہ بنائی جا سکتی ہے ، میرا پیغام ہے کہ اس موقع کو سٹوڈنٹس ضائع نہ کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ آرٹ کو تعلیم اور ڈ گری سمجھناوالدین کیلئے بھی بہت ضروری ہے ، والدین مانتے ہیں تو بچے اس طرف آتے ہیں ، والدین کو کنوینس کرنا اس میں بنیادی شرط ہے۔
![]()