
ایران نے جمعے کے روز دارالحکومت تہران کے انقلاب (انقلابِ اسلامی) اسکوائر میں ایک نیا مجسمہ نصب کیا ہے جس میں رومی بادشاہ ویلیریان کو ایرانی بادشاہ شاپور اوّل کے سامنے جھکے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر تیسری صدی عیسوی کی اُس تاریخی جنگ کی یاد دلاتا ہے جس میں ایران نے رومی سلطنت کو شکست دی تھی۔
ایران میں بڑھتی ہوئی قوم پرستی کی مہم کے ایک حصے کے طور پر منعقد کی گئی، جس کا نعرہ حکام نے "ایران کے سامنے جھک جاؤ” (Kneel before Iran) رکھا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ملک میں جنگِ جون کے بعد عوامی حمایت اور قومی اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔تہران میونسپل بیوٹیفکیشن آرگنائزیشن کے سربراہ مہدی مذہبی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
> "ویلیریان کا مجسمہ ایک تاریخی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران ہمیشہ مزاحمت کی سرزمین رہا ہے۔ انقلاب اسکوائر میں اس منصوبے کا مقصد اس سرزمین کے شاندار ماضی کو اس کے امید بھرے حال سے جوڑنا ہے۔”
جون میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے جنگ بندی کے فوراً بعد اپنے بیانیے میں ایرانی قوم پرستی اور قدیم تاریخ کی عظمت کو شامل کرنا شروع کیا۔ اسلامی جمہوری نظام میں طویل عرصے تک قبل از اسلام علامتوں سے اجتناب برتا جاتا رہا، تاہم اب ان کی واپسی کو قومی فخر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں، جنگ کے چند روز بعد تہران کے وانک اسکوائر میں ایک دیو قامت دیوار گیر تصویری منظر آویزاں کیا گیا جس میں ایران کے قدیم ہیرو آرشِ کمانگیر کو تیر چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جب کہ پس منظر میں اسرائیل کی طرف داغے جانے والے جدید میزائل دکھائے گئے ہیں۔
نیا مجسمہ 260 عیسوی کی جنگِ ادیسہ (Battle of Edessa) کی یادگار ہے، جس میں ساسانی سلطنت کے دوسرے بادشاہ شاپور اوّل (240 تا 270 عیسوی) نے رومی افواج کو شکست دے کر بادشاہ ویلیریان کو قیدی بنا لیا تھا — جو رومی سلطنت کے لیے ایک بے مثال سانحہ تھا۔
شاپور اوّل، جو اردشیر اوّل کے بیٹے تھے، نے ایرانی سلطنت کو وسعت دی اور رومی سلطنت کے ساتھ کئی بار معرکے لڑے۔ ایران کے تاریخی مقام نقشِ رستم پر کندہ پتھریلے مناظر میں بھی شاپور کو گھوڑے پر سوار اور ویلیریان کو جھکے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویلیریان، جس نے اپنے بیٹے گالیینس کے ساتھ 253 سے 260 عیسوی تک حکومت کی، نے رومی سلطنت کی مشرقی سرحدوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کی تھی, لیکن شاپور کے ہاتھوں عبرتناک شکست کھائی۔
ایران میں اب قبل از اسلام دور کے ہیروز اور علامتوں جیسے سائرسِ اعظم کی تصاویر اور قومی گیت, کو بھی مذہبی رسومات میں شامل کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران اب اپنی قدیم شناخت کو دوبارہ اپنانے کی راہ پر گامزن ہے۔
![]()