تھانہ بھانہ ماڑی کی پولیس چوکی گل آباد کے محرر نے چار گھنٹے حبس بے جا میں رکھا، بعدازاں شدید تشدد کا نشانہ بنایا، عمر زیب
تشدد کرنے والے اہلکاروں کیخلاف پولیس کے اعلیٰ حکام کے پاس درخواست جمع کرا رکھی ہے لیکن آج تک انصاف نہیں مل رہا
انصاف کے لیے علاقہ ڈی ایس پی کے آفس تھانہ یکہ توت گیا تو وہاں بھی تشدد کیا گیا، پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس

پشاور(مدثرزیب) پشاور کے نواحی علاقے پشتخرہ حضرت بابا کے رہائشی عمر زیب ولد خان زیب نے تھانہ بھانہ ماڑی چوکی پولیس کے مظالم خلاف پریس کانفرنس کی۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمرزیب نے کہا کہ وہ 15 ستمبر کو اپنے مخالفین کے خلاف تھانہ بھانہ ماڑی کی چوکی گل آباد گئے جہاں انہیں انصاف کی بجائے چوکی محرر نے چار گھنٹے حبس بے جا میں رکھنے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور رپورٹ بھی درج نہیں کی۔اس کے بعد مجھے تھانہ بھانہ ماڑی منتقل کیا گیا جہاں پر مجھ سے میرا لائسنس یافتہ اسلحہ بھی لیا گیا اور تھانہ میں بھی مجھے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ دو روز بعد تھانہ یکہ توت ڈی ایس پی کے آفس گئے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے لیکن انہیں تھانہ یکہ توت میں بھی ایس پی سٹی کے حکم پر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا لیکن انصاف فراہم نہیں کیا گیا اور نہ میرے مخالفین کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف پولیس کے اعلی حکام کے پاس درخواست جمع کرا رکھی ہے لیکن انہیں آج تک انصاف نہیں مل رہا،الٹا انہیں پولیس کی طرف سے دھمکی آمیز کالیں موصول ہو رہی ہیں کہ پولیس کے خلاف آپ نے جتنی بھی درخواستیں جمع کی ہیں وہ واپس لے لیں بصورت دیگر آپ کو پولیس مقابلے میں مار دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست جمع کی ہے جس کی وجہ سے تشدد کرنے والے پولیس اہلکار اِن سے خائف ہیں اور وہ اب ان کو اور ان کے خاندان کے افراد پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ یہ تمام درخواستیں واپس لیں بصورت دیگر آپ کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے