پشاور: صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں EMAN WO کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پشاور کی مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران، ارکانِ پارلیمنٹ، ڈپٹی اسپیکر اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ماہر شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقائی اور سماجی مسائل پر ایک جامع سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امن فاؤنڈیشن کے چیئرمین شیخ نور خان نے نوجوان نسل کی مثبت رہنمائی، منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ڈرگ ایڈکشن کیسز میں کمی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر عملی اقدامات کر سکیں۔
شیخ نور خان نے اپنے خطاب میں سماجی تنظیموں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے سوشل آرگنائزیشنز کی رجسٹریشن کے عمل میں نرمی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور سماجی تنظیموں کے درمیان مضبوط باہمی روابط اور تعاون سے نہ صرف معاشرتی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کو مثبت سمت میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شیخ نور خان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ عمل بنانے کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جو ان سفارشات پر غور کرنے کے بعد اپنی رپورٹ صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں EMAN WO کی تقریب، علاقائی مسائل پر اہم سیشن کا انعقادپشاور: صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا میں EMAN WO کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران پشاور کی مختلف سماجی تنظیموں کے عہدیداران، ارکانِ پارلیمنٹ، ڈپٹی اسپیکر اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ماہر شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر علاقائی اور سماجی مسائل پر ایک جامع سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔سیشن سے خطاب کرتے ہوئے امن فاؤنڈیشن کے چیئرمین شیخ نور خان نے نوجوان نسل کی مثبت رہنمائی، منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ڈرگ ایڈکشن کیسز میں کمی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ علاقوں کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ پلیٹ فارم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ حکومت اور سماجی تنظیمیں مل کر عملی اقدامات کر سکیں۔شیخ نور خان نے اپنے خطاب میں سماجی تنظیموں کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے سوشل آرگنائزیشنز کی رجسٹریشن کے عمل میں نرمی کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور سماجی تنظیموں کے درمیان مضبوط باہمی روابط اور تعاون سے نہ صرف معاشرتی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کو مثبت سمت میں آگے بڑھنے کے مواقع بھی فراہم کیے جا سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شیخ نور خان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ عمل بنانے کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، جو ان سفارشات پر غور کرنے کے بعد اپنی رپورٹ صوبائی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے