موجودہ مالی سال کے لئے منظور شدہ فنڈ مختلف شعبوں میں تقسیم کیا خرچ کیا جائے گا، بریفنگ
پشاور (سٹاف رپورٹر) ضلعی زکوٰۃ کمیٹی کا اہم اجلاس گزشتہ روز چیئرمین ملک جہانزیب خان کی صدارت میں منعقد ہوا اس موقع پر سید ظہیرالدین باچا، ملک نذیر خان اور سید طارق علی شاہ بھی موجود تھے اجلاس میں زکوٰۃ فنڈ 2025-26 کی تقسیم اور مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال کے لئے منظور شدہ فنڈ درج ذیل شعبوں میں تقسیم کیا خرچ کیا جائے گا جس میں مستحق بچیوں کی شادی بیاہ، تعلیمی وظائف کالجز و یونیورسٹیوں کے طلباسمیت دینی مدارس کے طلباء بھی شامل ھوں گے جبکہ اس کے علاوہ ضلعی و صوبائی سطح پر صحت کے منصوبے سماجی بہبود کے ادارے آڈٹ اسٹاف و دیگر اخراجات بھی شامل ھوں گیاس کے ساتھ ساتھ صوبائی سطح پر پشاور کے بڑے بڑے ہسپتالوں اور بلڈ بینکس کے لئے خصوصی فنڈز مختص کیا گیا تاکہ مریضوں کو علاج معالجے میں ھر ممکن سہولت فراہم کی جا سکیں اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور میں اس وقت 27 لوکل زکوٰۃ کمیٹیاں غیر فعال ہیں۔ ان کمیٹیوں کو فعال بنانے اوران کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے سخت ہدایات جاری کی گئیں۔اس موقع پرایک کمیٹی کے چیئرمین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ پیش کیا جسے اجلاس میں نوٹ کیا گیا۔دینی مدارس کی شمولیت پشاور اور کے 7 نئے دینی مدارس نے زکوٰۃ فنڈز اندراج کی درخواست دی تاکہ مستحق طلباء کو وظائف فراہم کیے جا سکیں۔ضلعی زکوٰۃ آفیسر ارباب حمایت الرحمن نے فنڈز کی تفصیلات پیش کیں جبکہ چیف آڈٹ آفیسر زاہد خان نے آڈٹ کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم مل جل کر شفافیت، ایمانداری اور دیانتداری کے ساتھ کام کریں گے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ زکوٰۃ فنڈز صرف اور صرف مستحقین تک پہنچائیں گے۔
![]()