امجد ہادی یوسفزئی

بھارت گزشتہ کئی برسوں سے فلم اور میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف اپنا من گھڑت بیانیہ کامیابی سے فروخت کر رہا ہے۔ یہ فلمیں نہ صرف باکس آفس پر کمائی کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس پورے عمل کے مقابلے میں پاکستانی ریاستی و ثقافتی ادارے یا تو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا محض رسمی بیانات اور وقتی ردِعمل تک محدود ہیں۔

بھارتی فلموں میں پاکستان کو اکثر دہشت گردی کا مرکز، ریاستی سرپرستی میں تشدد کا حامی اور خطے کے امن کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر دہشت گردی کے پس منظر میں بننے والی فلموں میں پختونوں کو منفی، وحشی اور شدت پسند کرداروں میں دکھایا جاتا ہے، جبکہ بھارت کی دراندازی، خفیہ کارروائیوں اور ریاستی تشدد کو یا تو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے یا اسے “قومی سلامتی” کے نام پر جواز بخش دیا جاتا ہے۔ اس یکطرفہ بیانیے کے نتیجے میں دنیا کے سامنے ایک مسخ شدہ تصویر پیش کی جاتی ہے، جس کا خمیازہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے عوام بھگتتے ہیں۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ سوال پاکستانی اداروں پر اٹھتا ہے۔ اطلاعات، ثقافت اور فلم سے وابستہ سرکاری ادارے آخر کہاں ہیں؟ کیا ان کی ذمہ داری صرف تقریبات، سیمینارز اور ملی نغموں تک محدود ہے؟ کیا عالمی سطح پر بیانیے کی جنگ محض پریس ریلیز اور زبانی جمع خرچ سے جیتی جا سکتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے فلم، ڈاکومنٹری اور ڈرامے جیسے طاقتور ذرائع کو سنجیدگی سے استعمال ہی نہیں کیا، جبکہ بھارت انہیں منظم حکمتِ عملی کے تحت، ریاستی سرپرستی اور معاونت سے بروئے کار لا رہا ہے۔

پاکستانی فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی مجبوریوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جو لوگ حساس، حقیقت پسندانہ یا ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھانے والے موضوعات پر کام کرنا چاہتے ہیں، انہیں اجازت ناموں، فنڈنگ کی کمی اور سب سے بڑھ کر سنسر بورڈ کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی طرح کوئی منصوبہ منظور ہو بھی جائے تو سنسر کے مراحل اس قدر کٹھن بنا دیے جاتے ہیں کہ تخلیقی آزادی دم توڑ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے باصلاحیت فنکار یا تو خاموش ہو جاتے ہیں یا پھر غیر متنازع، بے ضرر موضوعات تک محدود رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

حالیہ بھارتی فلم “دھریندر” اس پورے منظرنامے کی ایک تازہ مثال ہے۔ اس فلم کو غیر معمولی کامیابی اس وقت ملی جب خود پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے تنقید یا تجسس کے نام پر اس کی بھرپور تشہیر کر دی۔ یوں ایک اور پروپیگنڈہ بیانیہ سرحد پار بیٹھ کر ہماری ہی توجہ اور ردِعمل کی بدولت مضبوط ہوا۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم نادانستہ طور پر اپنے خلاف تیار کیے گئے مواد کو پھیلانے میں کیوں شریک ہو جاتے ہیں۔

یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارتی فلم ساز پروپیگنڈہ فلمیں حقائق کی تلاش یا فنکارانہ سچائی کے لیے نہیں بناتے۔ یہ فلمیں حکومت کی سرپرستی، مالی معاونت اور پالیسی رہنمائی میں تیار کی جاتی ہیں تاکہ ایک مخصوص ریاستی مؤقف کو عوام اور دنیا کے سامنے بیچا جا سکے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اگر واقعی اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی فلم کو ایک سنجیدہ سفارتی اور ثقافتی ہتھیار کے طور پر اپنانا ہوگا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود فریبی چھوڑ دیں۔ صرف ملی نغمے، جذباتی تقاریر اور وقتی بیانات کافی نہیں۔ ہمیں عالمی معیار کی فلمیں، سیریز اور ڈاکومنٹریز بنانی ہوں گی جو نہ صرف ہمارے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کریں بلکہ فنی لحاظ سے بھی مضبوط ہوں۔ اس کے لیے سنسر کے نظام میں اصلاحات، فلم سازوں کو آزادی، اور ریاستی سطح پر واضح پالیسی کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر، بیانیے کی یہ جنگ ہم یونہی ہارتے رہیں گےاور تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنی کہانی خود نہیں سناتیں، دنیا ان کے بارے میں دوسروں کی گھڑی ہوئی کہانیاں ہی سچ مان لیتی ہے۔

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے