
تیبلیسی (ویب ڈیسک، محمد مبین) آسٹریلیا کی معروف دائیں بازو کی سیاستدان اور ون نیشن پارٹی کی سربراہ، پالین ہینسن نے پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر ایک بار پھر تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اُن کا یہ اقدام عوامی مقامات پر برقعہ اور چہرہ ڈھانپنے والے دیگر لباس پر پابندی کے لیے دباؤ بڑھانے کی کوشش تھا۔
پالین ہینسن نے پیر کے روز سینیٹ میں داخل ہوتے ہوئے برقعہ اوڑھ کر سب کو حیران کر دیا، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ سینیٹ نے اُنہیں بل پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جس کے ردعمل میں انہوں نے یہ ’ڈرامائی‘ قدم اٹھایا۔ ہینسن نے برقعہ اتارنے سے انکار کیا تو ایوان کی کارروائی معطل کر دی گئی۔
آسٹریلوی گرینز کی مسلمان سینیٹر مہرین فاروٴقی نے اس اقدام کو کھلی ’’نسل پرستی اور اسلاموفوبیا‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ “لباس کا انتخاب سینیٹرز کی اپنی مرضی ہو سکتا ہے، لیکن نسل پرستی سینیٹ کی پالیسی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
آزاد رکن پارلیمنٹ اور مسلمان سینیٹر فاطمہ پیمان نے بھی پالین ہینسن کے عمل کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لاکھوں آسٹریلوی مسلمانوں کی توہین کر رہی ہیں۔ حکومتی رہنما اور لیبر پارٹی کی سینیٹ لیڈر پینی وونگ نے اس حرکت کو ’’سینیٹ کے وقار کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے ہینسن کو معطل کرنے کی قرارداد پیش کی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ پالین ہینسن نے برقعہ استعمال کر کے تنازع چھیڑا ہو۔ وہ 2017 میں بھی اسی طرح برقعہ پہن کر ایوان میں داخل ہوئی تھیں، جس کا مقصد برقعہ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے تارکین وطن کے خلاف اپنی مہم کو تقویت دینا تھا۔ ہینسن 1990 کی دہائی میں ایشیائی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی مخالفت کے باعث سیاسی شہرت حاصل کر چکی ہیں۔
پیر کے روز پیش آنے والے واقعے کے بعد اپنے فیس بک بیان میں انہوں نے برقعے کو ’’جابر‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ خواتین پر ظلم کی علامت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے یہ احتجاج اس لیے کیا کیونکہ سینیٹ نے برقعہ پابندی کا ان کا نیا بل مسترد کر دیا تھا۔
![]()