خود ساختہ ”صدر“ اور ہمنواؤں کی ہنگامہ آرائی،صحافیوں کے ساتھ ہاتھا پائی، کیمرہ توڑ ڈالا
خطرناک افغانی گروہ کے خلاف سوشل میڈیا پر خبریں وائرل ہونے کے بعد دو نمبرسوشل میڈیا گروپس سرگرم، صحافیوں کے خلاف ہرزہ سرائی
پشاور (مدثر زیب) پشاور بھر میں عوامی شکایات پر ضلعی انتظامیہ کا بڑا آپریشن، کریم پورہ، شاہین بازار، جھنڈا بازار میں تجاوزات مسمار، شہریوں کا اظہار اطمینان۔ تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ پشاور نے عوامی شکایات پر تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پرآپریشن کا آغاز کر دیا۔ اے اے سی کی زیر نگرانی کارروائی کے دوران اندرون شہر میں قائم مارکیٹوں کے خود ساختہ ”صدر“ اور اس کے ہمنواؤں نے نہ صرف انتظامیہ سے بدتمیزی کی، سرکاری کام کی راہ میں رکاوٹ بنے بلکہ کوریج کرنے والے صحافیوں کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور اُن کے کیمرے بھی توڑ ڈالے۔ ذرائع نے بتایا کہ خود ساختہ صدر جو اصل میں ایک افغانی ہے اور پولیس و دیگر افسران کو پگڑیاں پہنانے میں بھی اس کا بڑا ہاتھ بتایا جاتا ہے نے اپنے کارندوں کے ساتھ اے اے سی بھی تلخ کلامی کی جبکہ خود ساختہ صدر نے بیٹوں نے صحافیوں پر حملہ کیا۔ اس حوالے سے تھانہ ہشتنگری میں صحافیوں کی جانب سے ایک درخواست بھی دی گئی جس میں کہا گیا کہ دوران کوریج ہمیں زدوکوب کیا گیا اورہمارے کیمرے بھی توڑے گئے جبکہ شہر میں خطرناک افغانی گروہ کے خلاف خبریں وائرل ہونے کے بعد کچھ دو نمبری سوشل میڈیاگروپ میں من گھڑت اور جھوٹی خبروں کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ جس میں بین الاقوامی شہرت کے مالک صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔اس حوالے سے شہریوں نے بتایا کہ تجاوزات اور قبضہ مافیا و غیر قانونی دکانوں کی وجہ سے بازاروں میں آنا جانا خصوصاً خواتین کے لئے دشوار ہو چکا تھا جبکہ ان ہی خود ساختہ صدور اور غیر قانونی کاروبار وں کے سرپرستوں کی وجہ سے شہر کی بعض افغانی مارکیٹوں میں غیر قانونی طورپر کپڑوں کی سمگلنگ کا دھندا بھی جاری تھا جو کافی عرصہ سے انتظامیہ کے لئے چیلنج بنا ہوا تھا۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پشاور کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن بلاشبہ قابلِ تحسین ہے،اس حوالے سے صحافتی حلقوں نے بتایا کہ صحافیوں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، جب انتظامیہ نے افغانیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تو یہ لوگ صحافیوں و دیگر شہریوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گزشتہ رات ہونے والے واقعہ کی فوری تحقیقات کی جائیں اور خود ساختہ صدور سمیت دیگر افغانیوں کو فوری افغانستان بھیجا جائے تاکہ پشاور کے باسی سکھ کا سانس لے سکیں۔


![]()