پانی کی قلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی،”مسئلہ کشمیر“ کی طرح یہ مسئلہ بھی حل طلب ہو کر رہ گیا، شہری پھٹ پڑے
پشاور (سٹی رپورٹر) صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی اور ٹیوب ویلوں کے مسائل بڑھنے لگے جس کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مختلف علاقوں میں پانی کی قلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، جبکہ متعلقہ ادارہ واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور بری طرح ناکام نظر آ رہا ہے۔ مسئلہ اتنا سنگین ہوتا جا رہا ہے کہ اب یہ ”مسئلہ کشمیر” کی طرح حل طلب ہو کر رہ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر جگہ درخواستیں دی لیکن کہیں بھی شنوائی نہیں ہورہی، جب مقامی ایم این اے اور ایم پی ایز پانی جیسے بنیادی اور چھوٹے مسائل حل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تو بڑے مسائل کے حل کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے۔ شہریوں نے شکایت کی کہ حلقوں کی ترقی کے لیے جو خطیر فنڈز مختص کیے جاتے ہیں وہ آخر کہاں خرچ ہوتے ہیں؟ کیا یہ فنڈز عوامی مسائل کے حل کے بجائے محض حکومتی افسران اور سیاسی رہنماؤں کی جیبیں بھرنے کے لیے رکھے گئے ہیں؟ اگر ڈبلیو ایس ایس پی اور بلدیاتی ادارے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں تو پھر ایسے محکموں پر تالے لگا دینے چاہئیں۔ شہریوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کے دنوں میں یہی وفاقی اور صوبائی نمائندے عوامی خدمت کے دعوے کرتے ہیں لیکن انتخاب جیتنے کے بعد انہیں عوامی مسائل یاد نہیں رہتے۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پانی کے مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، ٹیوب ویلوں کی مرمت اور نئے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

![]()