گینگ کی مبینہ سرپرستی اور محکمہ خوراک کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے پنجاب سے گندا گوشت، کلیجی اور چکن بسوں کے ذریعے پشاور لایا جا رہا تھا
اے سی پشاور ہارون سلیم کی سربراہی میں کارروائی،1550 کلوگرام مضر صحت گوشت برآمد،7 ملزمان گرفتار
اسلام آباد (فیصل اکبر آفریدی)شہر میں مضر صحت گوشت کی سمگلنگ کا سلسلہ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق کالا قصائی گینگ کی مبینہ سرپرستی اور محکمہ خوراک کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے پنجاب سے بڑی مقدار میں گندا گوشت، کلیجی اور چکن بسوں کے ذریعے پشاور لایا جا رہا تھا۔اتوار کی صبح اے سی پشاور ہارون سلیم کی سربراہی میں کارروائی کے دوران تقریباً 1550 کلوگرام مضر صحت گوشت برآمد کر لیا گیا جبکہ 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ برآمد ہونے والا گوشت شہر کے مختلف بڑے ہوٹلوں اور ڈھابوں کو فراہم کیا جانا تھا، جہاں یہ چپلی کباب، سیخ کباب اور دیگر کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کالا قصائی گینگ ایک منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکا ہے جو مضر صحت گوشت کی ترسیل میں ملوث ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اب تک اس گینگ کے اصل سہولت کاروں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ محکمہ خوراک مضر صحت گوشت کی اسمگلنگ روکنے میں کیوں ناکام دکھائی دے رہا ہے جبکہ اس حوالے سے اکثر کارروائیاں اے سی پشاور کی ذاتی نگرانی میں ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب راشنگ کنٹرولر کی بے خبری نے بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں مضر صحت گوشت کی ترسیل کے پیچھے بڑے نام ملوث ہیں اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔


![]()