ریو کار، سرکاری رہائش گاہ اور خصوصی پروٹوکول نے سوالات کھڑے کر دئیے؟؟
کرک سے تعلق رکھنے والے اس کانسٹیبل کے اختیارات اور سہولیات نے سینئر افسران تک کو حیران کر دیا
محکمہ پولیس اور حکومت اس مبینہ بااثر اہلکار کا احتساب کرے گی یا معاملہ کسی بڑے اسکینڈل کی شکل اختیار کرے گا؟

اسلام آباد (رپورٹ:فیصل اکبر آفریدی)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ہاؤس میں تعینات ایک پولیس کانسٹیبل جسے عملے ”خٹک بابا“ کے نام سے جانا جاتا ہے اِن دنوں شہر بھر میں زیرِ بحث ہے۔ انتہائی باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کرک سے تعلق رکھنے والے اس کانسٹیبل کے اختیارات اور سہولیات نے سینئر افسران تک کو حیران کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پینٹ کوٹ میں ملبوس، بااثر شخصیات کے قریب ترین تصور کیے جانے والے خٹک بابا کو نہ صرف ایک ریو گاڑی الاٹ کی گئی بلکہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ میں سرکاری بنگلہ، فریج، ایل ای ڈی اور دیگر مکمل سہولیات بھی فراہم ہیں جو عام طور پر ڈی ایس پی اور اعلیٰ افسران کے حصے میں بھی کم ہی آتی ہیں۔اچنبھے کی بات یہ ہے کہ محکمہ پولیس کے کئی گریڈ 16–17 کے افسران سرکاری رہائش گاہ کے منتظر ہیں، جبکہ ایک کانسٹیبل کو اس قدر پروٹوکول نے محکمے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ متعلقہ اہلکار کے بارے میں واضح طور پر یہ تک معلوم نہیں کہ وہ کانسٹیبل ہے یا ہیڈ کانسٹیبل، کیونکہ موصوف نے اب تک کسی بڑے کورس یا ٹریننگ میں شرکت نہیں کی تاہم پروٹوکول، طاقت اور اثر رسوخ کی سطح ایک سینئر افسر سے کم نہیں۔اطلاعات کے مطابق(خٹک بابا)ماضی میں ایک اہم سیاسی رہنما کے گن مین رہے، پھر ایک وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ منسلک ہوئے اور اب دوسرے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ ایسے جڑے ہیں گویا خاندان کا حصہ ہوں۔ٹرانسفر، پوسٹنگز اور بھرتیوں میں بھی ان کا نام مختلف مواقع پر لیا جاتا رہا ہے۔پولیس رینک اینڈ فائل میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک عام کانسٹیبل کو ریو گاڑی اور سرکاری بنگلہ کس حیثیت میں دیا گیا؟ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید انکشافات بھی متوقع ہیں، جبکہ محکمے کے اندر خاموشی کے باوجود بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں سرکاری اداروں کے اندرونی معاملات میں کرپشن کی جڑیں مزید گہری ہو چکی ہیں کیونکہ کرپشن ہمیشہ اندر سے پھوٹتی ہے اور بیرونی بدعنوانی اسی وقت جنم لیتی ہے جب اندرونی سطح کرپٹ عناصر مضبوطی سے تعینات ہوں۔بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے سے قبل عوام کو کرپشن کے مکمل خاتمے اور میرٹ کی بالادستی کا خواب دکھایا تھا مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔گزشتہ ادوار ہوں یا موجودہ حکومت، کرپشن میں کمی کی بجائے اضافہ ہی سامنے آیا ہے جس نے شہریوں میں سخت مایوسی اور بیزاری پیدا کر دی۔ دعویٰ کیا گیا تھا مگر آج صوبے کے ہر شہری ہر محکمے میں سفارش رشوت ٹرانسفر پوسٹنگ اور اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت سے تنگ آ چکے، (خٹک بابا) جو کہ جنوبی اضلاع سے آیا اور یہیں پر ٹکا رہا زبان زد عام ہے،سوال اٹھ رہے ہیں کہ آخر انہیں کس بنیاد پر اتنی دیر تک اسی عہدے پر رکھا گیااور اصل سوال بھی یہ ہے کہ صوبے میں کرپشن کا خاتمہ آخر کرے گا کون؟؟؟
![]()