اسلام آباد میں نامور شاعر ادیب اور بابائے خاکہ جناب گل محمد بیتاب کے خاکوں کی کتاب "د اباسین پہ غاړه” کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی، جس کا اہتمام پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد نے کیا تھا۔
تقریب کی صدارت پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے چیئرمین سید محمود احمد نے کی۔
اس موقع پر پاک افغان امور کے ماھر اور دفاعی تجزیہ کار میجر عامر، ممتاز ادیب ڈاکٹر فصیح الدین اشرف اور اکادمی ادبیات پاکستان پشاور کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر گلزار جلال یوسفزئی مہمانان خصوصی تھے۔
نظامت کے فرائض پشتو ادبی سوسائٹی اسلام آباد کے سیکرٹری جنرل سردار یوسفزئی نے انجام دیے۔
م ر شفق، پروفیسر ڈاکٹر منظور مضطر اپریدي، ڈاکٹر داود جان مومند، عبدالحمید زاہد، سید جاوید اقبال گیلانی، ذاکر یوسفزئی، فجی گل، خورشید ابن لبید، احساس خٹک قيصر بټ سليم خان ايډوکيټ سردار جمال سدهير سواتى بشارت کهوکهر اور حیات سواتی نے گل محمد بیتاب کی ادبی خدمات پر انکو منظوم و منثور خراجِ تحسین پیش کیا۔

گل محمد بیتاب 1965ء میں سلطان محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قوم شینواری سے ہے۔ یہ پشاور شہر کے قریب واقع گاؤں چمکنی میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بارہویں جماعت تک تعلیم سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں حاصل کی۔ بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر ایم۔اے (پشتو) کی ڈکری خاصل کی
کالج کے زمانہ طالب علمی ہی سے شعر و ادب سے وابستہ رہے۔ انہوں نے کئی ادبی تنظیموں خصوصاً سرحد پشتو ادبی تولنه، د ساهو لیکونکو مرکه، ننګیال پښتو جرګه اور کامل پښتو ادبی جرګه میں رکنیت حاصل کی اور بہت سے مشاعروں، کانفرنسوں اور تنقیدی نشستوں میں شرکت کی۔
ابتداء میں صرف شاعری کرتے تھے لیکن بعد میں نثر لکھنا بھی شروع کیا۔
وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے۔ پشتو اور اردو کے متعدد اخبارات مثلاً بانگ حرم، وحدت، هیواد، خبرونه، کسوتي، غازی کے علاوہ اردو اخبارات انقلاب اور صبح میں رپورٹر، مترجم اور ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔
ریڈیو پاکستان پشاور سے 1990ء سے لے کر 2022ء تک بطور مستقل سیاسی مبصر منسلک رہے۔ ریڈیو پاکستان پشاور اور دیگر منصوبوں کے لیے تقریباً 600 ڈرامے لکھے، جن میں ایک ڈرامہ "نمر په چنارونو” تھا جو 223 اقساط پر مشتمل تھا اور کئی سال نشر ہوتا رہا۔ ڈراموں کے علاوہ انہوں نے پشتو خاکہ نگاری میں بھی کافی کام کیا اور سو سے زائد خاکے تحریر کیے۔ مختلف اقسام کے کالم بھی وقتاً فوقتاً اخبارات میں لکھے۔
اب تک شائع ہونے والی کتابیں
قافلہ (شاعری)
د چرچڼو توت (خاکے اور مقالات)
روشن چہرے (خاکے)
د دستار سړي (خاکے)
د علم ښار (احادیث کے مجموعوں اور ائمہ کے بارے میں معلوماتی فیچرز)
تاریخی مرکې (نامور ادیبوں کے انٹرویوز)
باچا خان (ڈرامہ)
د سر سړي (نامور سیاستدانوں کے خاکے)
خوشحال خان خټک (ڈرامہ)
د کار سړي
د اباسین په غاړه (خاکے)
اب تک ان کی کل گیارہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں

Loading

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے