پشاور: خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے یو جے) نے ملک بھر خصوصاً خیبر پختونخوا میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے کارکن صحافیوں، ویڈیو جرنلسٹس اور دیگر میڈیا ورکرز کی مسلسل برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور ملازمین سے دباؤ کے تحت جبری استعفے لینے کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یونین کے مطابق اس سلسلے میں آئندہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے 12 مئی کو پشاور پریس کلب میں ایک اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اجلاس بروز منگل 12 مئی 2026 کو شام 4 بجے پشاور پریس کلب میں منعقد ہوگا، جس میں صوبے بھر سے صحافی رہنماؤں اور میڈیا ورکرز کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں پشاور کے سینئر صحافیوں کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا جائے گا تاکہ میڈیا صنعت کو درپیش مسائل پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں مختلف میڈیا اداروں کی جانب سے ملازمین کی برطرفیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ کئی اداروں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو کئی کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر ملازمین کو دباؤ میں لا کر استعفے دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پیشہ ورانہ ماحول متاثر ہو رہا ہے بلکہ صحافی برادری شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہے۔

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری ارشاد علی نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کو بے روزگار کرنا ناقابل قبول عمل ہے اور میڈیا ورکرز کے حقوق کا ہر صورت دفاع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صحافیوں کو پیشہ ورانہ تحفظ، بروقت تنخواہیں اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ ان کے مطابق احتجاجی تحریک کو صرف پشاور تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے صوبہ بھر میں وسعت دی جائے گی۔

اجلاس میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، علامتی دھرنوں اور دیگر احتجاجی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مختلف صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں سے بھی رابطے جاری ہیں تاکہ مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت مؤثر آواز بلند کی جا سکے۔

پاکستان میں میڈیا انڈسٹری کو گزشتہ چند برسوں سے مالی مشکلات، اشتہارات میں کمی اور ادارہ جاتی بحران جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق ان حالات کے باعث متعدد میڈیا ہاؤسز نے اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کی تعداد میں کمی کی جبکہ کئی کارکنوں کو تنخواہوں کی تاخیر یا عدم ادائیگی کا سامنا بھی رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات نہ صرف صحافیوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی پر پڑ رہے ہیں بلکہ آزادیٔ اظہار اور عوام تک درست معلومات کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

صحافتی حلقوں کے مطابق اگر میڈیا ورکرز کو درپیش مسائل کا بروقت حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات پورے میڈیا سیکٹر پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب یونین رہنماؤں نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ ادارے صحافیوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ میڈیا صنعت میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔

Loading

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *