نوجوانوں اور مستحق افراد کو ہنر، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کی

پشاور: خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی معروف اداکارہ، ماڈل، میزبان اور گلوکارہ نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فلاحی تنظیم کے تحت عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ تنظیم کی جانب سے خواتین، نوجوانوں اور مستحق افراد کو ہنر، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پشاور میں جاری کیے گئے اپنے بیان میں عینی خان نے کہا کہ پاکستان میں بے روزگاری ایک سنگین سماجی اور معاشی چیلنج بن چکا ہے، جس سے بالخصوص نوجوان نسل اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے باصلاحیت افراد صرف مواقع کی کمی کے باعث معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اسی لیے تنظیم کے پلیٹ فارم سے ایسا مربوط نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے ذریعے مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم کا مقصد محض مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ افراد کو خود کفیل بنانا، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور انہیں عملی میدان میں آگے بڑھنے کے قابل بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہنر مندی کے پروگرام، تربیتی ورکشاپس، کاروباری رہنمائی، چھوٹے پیمانے پر کاروبار کے مواقع اور مختلف شعبہ جات میں روزگار تک رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
عینی خان کے مطابق تنظیم مستقبل قریب میں ملک بھر کے صنعتکاروں، کاروباری شخصیات، مخیر حضرات اور سماجی رہنماؤں سے رابطے کرے گی تاکہ اس منصوبے کے لیے مالی و عملی تعاون حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صاحبِ حیثیت افراد اور ادارے اس مشن میں کردار ادا کریں تو ہزاروں بے روزگار افراد کو باعزت روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ خواتین کی خودمختاری نہ صرف خاندان بلکہ مجموعی معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق معاشی استحکام کے لیے خواتین اور نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔
سماجی اور ثقافتی حلقوں نے عینی خان کے اس اقدام کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ مختلف سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات جب عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں آتی ہیں تو اس سے نہ صرف شعور اجاگر ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں امید اور اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں بے روزگاری کی شرح گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک اہم معاشی مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے، جبکہ خواتین کی بڑی تعداد اب بھی باقاعدہ روزگار کے مواقع سے محروم ہے۔ ایسے حالات میں فلاحی اور تربیتی منصوبے نوجوانوں کو معاشی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے کو مؤثر انداز میں جاری رکھا گیا اور نجی شعبے سمیت سماجی اداروں کا تعاون حاصل رہا تو یہ اقدام نہ صرف بے روزگاری میں کمی بلکہ خواتین کی معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
![]()