
پشاور(احتشام طورو) دنیا بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی عالمی یومِ ماحولیات 2026 آج بھرپور جوش و جذبے، عزم اور ماحولیاتی شعور کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا جنید خان نے کہا ہے کہ ماحول اور قدرتی وسائل کا تحفظ نہ صرف موجودہ نسل کی ضرورت ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے محفوظ، صحت مند اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بھی ہے۔
اپنے خصوصی پیغام میں جنید خان نے کہا کہ قدرتی وسائل کی حفاظت، جنگلات کے فروغ، آلودگی کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں کمی کے لیے اجتماعی اور مربوط کوششیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی یومِ ماحولیات صرف ایک علامتی دن نہیں بلکہ انسان اور فطرت کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے اور زمین کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت فضائی اور آبی آلودگی، عالمی درجہ حرارت میں اضافے، غیر معمولی موسمی تبدیلیوں، جنگلات کے سکڑتے ہوئے رقبے اور قدرتی وسائل پر بڑھتے دباؤ جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتوں، اداروں اور عوام کے درمیان مؤثر تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی حسن، گھنے جنگلات، نایاب جنگلی حیات، بلند پہاڑی سلسلوں اور قیمتی آبی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ ان وسائل کے تحفظ اور پائیدار استعمال کے لیے صوبائی حکومت مختلف منصوبوں اور پالیسی اقدامات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات قدرتی وسائل کے تحفظ، جنگلات کے فروغ، جنگلی حیات کی بقا، ماحولیاتی قوانین کے نفاذ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہا ہے۔
جنید خان کے مطابق درخت ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے، بارشوں کے نظام کو مستحکم کرنے، زمین کی زرخیزی میں اضافے اور انسانی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شجرکاری مہمات، جنگلات کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی نظام کی بحالی کے بغیر موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔
انہوں نے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، کاروباری برادری اور ذرائع ابلاغ پر زور دیا کہ وہ ماحول دوست رویوں کے فروغ اور ماحولیاتی آگاہی بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر شہری ایک درخت لگانے، پانی اور توانائی کے ضیاع سے بچنے، پلاسٹک کے غیر ضروری استعمال میں کمی لانے اور صفائی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کا عہد کرے تو ماحولیاتی بہتری کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہونے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع بارشیں، سیلاب اور پانی کے وسائل پر بڑھتا دباؤ اہم ماحولیاتی چیلنجز بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں جنگلات کے تحفظ اور عوامی سطح پر ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی، جنگلات، ماحولیات و جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ماحول، جنگلات، جنگلی حیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھے ہوئے ہے اور ایک سرسبز، صاف ستھرے اور پائیدار خیبر پختونخوا کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ فطرت کے تحفظ کو اپنی قومی، سماجی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔
خلاصہ: عالمی یومِ ماحولیات 2026 کے موقع پر خیبر پختونخوا حکومت نے ماحول، جنگلات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی شمولیت اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی بھی ناگزیر ہے۔
![]()