امجد ہادی یوسفزئی

یہ صرف ایک قتل نہیں، یہ ایک فکر کا قتل ہے، ایک آواز کو دبانے کی کوشش ہے، اور ایک ایسے معاشرے کا عکس ہے جہاں سچ بولنا دن بدن خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کا خون ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر اس سرزمین پر حب الوطنی کا اظہار کب سے جرم بن گیا؟ کیوں ایک عالمِ دین، جو وطن سے محبت اور شدت پسندی کی مخالفت کا علم بلند کرے، وہ نفرت کا نشانہ بن جاتا ہے؟ یہ سانحہ محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے اور افسوس کہ ہم اس میں بار بار ناکام ہو رہے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا اختلافِ رائے اب اتنا ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے کہ اس کا جواب قتل کی صورت میں دیا جائے؟ یا پھر ہم نے اجتماعی طور پر نفرت کو اتنا معمول بنا لیا ہے کہ اب اس کے نتائج پر حیرت بھی نہیں ہوتی؟ جب معاشرے میں برداشت کی جگہ تنگ ہو جائے تو شدت پسندی کو راستہ خود بخود مل جاتا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے مگر بدقسمتی سے یہاں ایک واضح کمزوری دکھائی دیتی ہے۔ ایسے واقعات کا تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو حکومتی گرفت کمزور ہے یا پھر ترجیحات کہیں اور گم ہو چکی ہیں۔ قانون کی عملداری محض دعووں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے اور جب قاتل دندناتے پھریں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ انصاف کہاں ہے؟

اسی پس منظر میں ہمیں اس تلخ حقیقت کو بھی یاد رکھنا ہوگا کہ یہ المیہ نیا نہیں۔ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید کے سسر، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی مخالفت کی تھی، وہ بھی اسی طرح کے اندھے تشدد کا نشانہ بنے تھے۔ یہ ایک مسلسل سلسلہ ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ سوچ کا ہے، ایک ایسی سوچ جو اختلاف کو برداشت نہیں کرتی۔

سوشل میڈیا نے اس آگ کو مزید بھڑکایا ہے۔ آج کل بغیر تحقیق، بغیر ثبوت، محض جذبات اور سیاسی وابستگی کی بنیاد پر لوگوں کے خلاف مہمات چلائی جاتی ہیں۔ علماء کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ، کردار کشی، اور نفرت انگیز زبان ایک عام روایت بنتی جا رہی ہے۔ یہ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ یہی الفاظ کسی نہ کسی دن گولی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جب کسی شخصیت کو مسلسل نشانہ بنایا جائے، اسے غدار یا مجرم قرار دیا جائے تو شدت پسند عناصر کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اندھی تقلید خواہ وہ سیاسی ہو یا فکری معاشرے کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ جب لوگ بغیر سوچے سمجھے سوشل میڈیا بیانیے کو سچ مان لیتے ہیں تو وہ خود بھی اس نفرتی مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے سوال کریں۔ کیا ہم نے اختلاف کو دشمنی میں بدل دیا ہے؟ کیا ہم نے دلیل کو چھوڑ کر الزام تراشی کو اپنا لیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر کیا ہم خاموش رہ کر اس ظلم کے شریک نہیں بن رہے؟

ریاست کو چاہیے کہ وہ فوری اور سخت اقدامات کرے، قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور ان تمام عناصر کے خلاف کارروائی کرے جو نفرت اور اشتعال کو ہوا دیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی کیونکہ اگر سوچ نہ بدلی تو چہرے بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ خون صرف زمین پر نہیں گرا بلکہ ہمارے ضمیر پر بھی لگا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی نہ سیکھا، نہ بدلے تو کل شاید کسی اور کا نام ہوگا اور ہم پھر یہی سوال دہراتے رہیں گے کہ آخر یہ سب کب رکے گا؟

Loading

Related Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *