
خیبر (امان اللہ شینواری) عالمی یومِ آزادی صحافت کے موقع پر ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر، لنڈی کوتل میں ایک باوقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں آزادی صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی اضلاع میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز اور ان کے تحفظ کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
یہ سیمینار ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر کے ہال میں منعقد ہوا، جس کا اہتمام پریس کلب کی کابینہ نے کیا۔ تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر، تحصیل چیئرمین شاہ خالد شینواری، سیاسی و سماجی رہنما، وکلا، ضلعی انتظامیہ کے افسران، پولیس حکام اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطابات میں صحافت کی آزادی کو جمہوری معاشرے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک آزاد اور خودمختار میڈیا نہ صرف عوامی مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ حکومتی امور میں شفافیت اور احتساب کو بھی یقینی بناتا ہے۔
تقریب کے میزبان اور ڈسٹرکٹ پریس کلب خیبر کے صدر امان علی شینواری نے اپنے خطاب میں کہا کہ قبائلی اضلاع میں صحافی محدود وسائل اور سکیورٹی خدشات کے باوجود پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، تاہم انہیں حکومتی سطح پر مطلوبہ تعاون حاصل نہیں۔ انہوں نے پریس کلب کے فنڈز کے اجراء میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین، جن میں فضل الرحمن آفریدی، سجاد حسین شینواری، اقبال آفریدی، مجیب شینواری، مولانا عظیم شاہ، عبدالرازق شینواری اور ویلسن وزیر شامل تھے، نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو سکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خیبر پریس کلب کے لیے نئی عمارت کی تعمیر ناگزیر ہے تاکہ صحافتی سرگرمیوں کو بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
تقریب کے دوران صحافیوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، خصوصاً ان افراد کو جنہوں نے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مقررین کے مطابق صحافیوں کی قربانیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ وہ سچائی اور عوامی مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔
پس منظر کے طور پر، عالمی یومِ آزادی صحافت ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد دنیا بھر میں اظہارِ رائے کی آزادی کو فروغ دینا اور صحافیوں کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرنا ہے۔ پاکستان میں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں، صحافیوں کو نہ صرف سکیورٹی خطرات بلکہ محدود وسائل، ادارہ جاتی دباؤ اور معاشی مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر ایک آگاہی ریلی بھی نکالی گئی، جس میں شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا کر آزاد صحافت کے حق میں نعرے لگائے۔ ریلی کا مقصد عوام میں میڈیا کی اہمیت اور اس کے کردار کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ بعد ازاں پریس کلب کے اراکین میں تعریفی اسناد اور پریس کارڈز تقسیم کیے گئے، تاکہ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا جا سکے۔
مجموعی طور پر، اس سیمینار نے نہ صرف آزادی صحافت کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ متعلقہ حکام کو یہ پیغام بھی دیا کہ صحافیوں کے تحفظ، وسائل کی فراہمی اور پیشہ ورانہ ماحول کی بہتری کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ مستقبل میں اگر ان مطالبات پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف صحافیوں کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ ایک مضبوط اور ذمہ دار میڈیا کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔
![]()