
خیبرنامہ ڈیسک
دنیا کے تیل بازاروں میں ایک بڑی تبدیلی آ رہی ہے — اور اس کے اثرات اب پاکستانی عوام کی جیب تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
عالمی صورتحال — کیوں گرا تیل؟
2026 کے شروع میں برینٹ خام تیل 62 ڈالر فی بیرل کے قریب تھا، لیکن فروری کے آخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی اور ہرمز آبنائے کی بندش کے بعد قیمتیں 114 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچیں۔ دنیا بھر کی تیل سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے، اس لیے بندش نے فوری طور پر عالمی منڈی کو ہلا دیا۔
تاہم مئی میں صورتحال بدلنے لگی — امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے امکانات اور ہرمز آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی خبروں نے برینٹ کی قیمت کو اوسطاً 107 ڈالر تک لے آئیں — یہ اپریل کے مقابلے میں 10 ڈالر کم تھا اور دسمبر 2025 کے بعد پہلی ماہانہ گراوٹ تھی۔
امریکی توانائی ادارے ای آئی اے کے مطابق اگر ہرمز آبنائے تیسری سہ ماہی میں کھل جاتی ہے تو سپلائی میں اضافہ ہوگا اور آنے والے مہینوں میں قیمتوں میں مزید نرمی کا امکان ہے۔
پاکستان — عوام کو ریلیف
عالمی منڈی میں آنے والی اس گراوٹ کا سب سے بڑا فائدہ اب پاکستانی عوام کو ملا ہے۔
وزیرِاعظم شہبازشریف نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 378 روپے سے گھٹ کر 311 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے — یعنی پیٹرول میں 74 روپے اور ڈیزل میں 67 روپے فی لیٹر کمی۔
یہ اچانک نہیں ہوا — 12 جون کو بھی پیٹرول 4 روپے سستا ہوا تھا اور یہ مسلسل پانچویں کمی تھی۔ اوگرا ہر پندرہ روز بعد بین الاقوامی مارکیٹ کے رجحانات، زرِمبادلہ کی شرح، فریٹ اخراجات اور پیٹرولیم لیوی کو مدِنظر رکھ کر قیمتیں طے کرتی ہے۔
وفاقی وزیرِ توانائی علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کی کمی کا مکمل فائدہ عوام تک پہنچایا جائے۔ اس کے علاوہ حکومت ایک شفاف ہفتہ وار قیمت فارمولے پر بھی کام کر رہی ہے۔
عام آدمی پر اثر
74 روپے فی لیٹر کمی ایک بڑا فرق ہے۔ پیٹرول سستا ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور ملک بھر میں اشیاء کی ترسیل کے اخراجات میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔ رکشہ چلانے والا ہو، موٹرسائیکل سوار ہو یا مال بردار ٹرک — سب کے روزمرہ اخراجات میں واضح فرق محسوس ہوگا۔
![]()